کراچی( سید محمد عسکری) بحریہ ٹائون کے پاس ایم نائن موٹر وے پر ٹینکر اور بس حادثے نے موٹر وے پولس، ٹریفک پولیس اور کراچی انتظامیہ کی کارکردگی کی قلعی کھول دی ہے۔ کراچی حیدرآباد کے لئے بنایا گیا موٹر وے انتہائی غیر محفوظ ہے، رانگ سائیڈ اور رانگ یو ٹرن لینا ایک معمول کی بات ہے خصوصا سہراب گوٹھ سے بحریہ ٹاؤن تک سفر انتہائی غیر محفوظ ہے، موٹروے کے اطراف جنگلہ اور متوازی سٹرک نہ ہونے کے باعث جگہ جگہ غیر قانونی کٹ بنالئے گئے ہیں جس پر اچانک گاڑی آجاتی ہے یا رانگ سائیڈ سفر کرتی ہے۔ سہراب گوٹھ آلاصف اسکوائر سے آگے چوک کو بلائی گزرگاہ بنائے بغیر بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ جمالی پل تل رانگ سائیڈ ڈرائیونگ معمول کی بات بن گئی ہے جبکہ نیو سبزی منڈی پر رانگ سائیڈ ٹریفک معمول کی بات بن چکا ہے ۔سڑک کے ساتھ پیٹرول پمپ کے اطراف بسوں کے غیر قانونی اڈے بھی قائم کردیئے گئے اور ڈمپر اور مشینری بھی پارک ہوتے ہیں جب کہ ریتی بجری مافیا نے سڑک کے اطراف ریتی اور بجری کے ڈھیر بھی لگا رکھے جس سے نہ صرف سڑک تنگ ہوتی ہے بلکہ ریت بھی اڑ کر سڑک پر جمع ہوتی رہتی ہے جسکی وجہ سے نہ صرف ایم 9 پر ٹریفک کی روانی میں خلل پڑتا ہے بلکہ اکثر ٹریفک جام بھی رہتا ہے۔ منٹوں کے سفر میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ ٹریفک پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ٹریفک خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرنے کے لئے سہراب گوٹھ تا سبزی منڈی کیمرے ہی نہیں لگائے گئے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی وہ غیر قانونی بس اڈے اور ڈمپرز کی غیر قانونی پارکنگ ختم کرنا چاہتی ہے۔