• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سب سے پہلے بنگلا دیش، نومنتخب طارق رحمان کا اسلام آباد اور دہلی کو پیغام

ڈھاکہ ( اعزازسید ) بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے سربراہ طارق رحمان کی جانب سے اسلام آباد اوردہلی کو پیغام ہے کہ ان کی پہلی ترجیح بنگلہ دیش اور اسکے مفادات ہیں، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کیا بنگلہ دیش سارک کو دوبارہ منظم کرکے خطے میں امن کا کردار ادا کرسکتا ہے ؟ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی ، پاکستانی اور بھارتی صحافی بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی بات کررہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ 1971 میں بنگلہ دیش ہم سے دور ہوا جس میں پاکستانی غلط پالیسیوں کے ساتھ بھارت نے بھی کردار ادا کیا اب 2024 میں بھارت اپنی غلطیوں سے بنگلہ دیش سے دور ہو گیا ہے اور پاکستان کے راستے ہموار ہو گئے ہیں ، کیا یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا ۔ ایک بنگلہ دیشی نوجوان کی یہ بات حیرت انگیز تھی۔ ہم پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ یکساں اور بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، آپ دونوں نے ہم سے ایک ہی طرح کا سلوک کیا، ایک 1971 کا ذمہ دار ہے تو دوسرا 2024 میں قتل و غارت گری کا ، ہمیں دونوں زخم لگے ہیں مگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کے 5 اگست 2024 کو بھارت چلے جانے سے عام عوام میں بھارت مخالف جذبات ہیں مگر یہ جذبات بھارتی حکومت مخالف ہیں عوام مخالف نہیں ۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 4096 کلومیٹر لمبی زمینی سرحد ہے۔ دونوں ملکوں کی تجارت 14 سے 16 ارب ڈالرز تک کی ہے ۔ دونوں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں ۔ بھارت کو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ میں سارے انڈے رکھنے کی پالیسی مہنگی پڑی ہے مگر وہ وآپسی کے راستے بنا رہا ہے۔ بھارت کو احساس ہوگیا ہے کہ اس کی پالیسی ٹھیک نہیں تھی یا کم ازکم بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بنگلہ دیش کی نئی حقیقت ہے اسے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم الیکٹ طارق رحمان سے جب اس نمائندے نے پوچھا کہ ڈھاکہ میں لوگ شیخ حسینہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا آپ بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے۔ اس پر انہوں نے بہت محتاط انداز میں مختصر جواب دیا کہ یہ عدالتی عمل پر منحصر ہے۔

اہم خبریں سے مزید