نِگلی، سوپور ( جنگ نیوز) بھارتی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وولر بیراج اور اس کے حفاظتی بندوں کی تعمیری کارروائی جو 2012میں معطل ہوئی تھی، جلد ہی دوبارہ شروع کی جائے گی۔ پاکستان میں پانی کا مسئلہ مزید سنگین شکل اختیارکریگا، زراعت اور پینے کے پانی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔یہ فیصلہ اس صورتِ حال میں آیا ہے جب بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی کو معطل قرار دے کر چناب کے پانی کا رخ تبدیل کرنے کا منصوبہ شروع کررکھا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو تین مغربی دریاؤں — جہلم، چناب اور سندھ کے پانی پرتصرف حاصل تھاجبکہ تین مشرقی دریا بیاس ستلج اور راوی بھارت کودیے گئے تھے ، بھارت نے اپنے تصرف میں دیے جانے والے دریائوں پربندباندھ کرتینوں دریائوں کا پانی پہلے ہی مکمل طور پر روک رکھا ہے اور روایتی طور پر ان دریائوں کے نچلے علاقے کے باسیوں کو مکمل طور پر پہلے ہی پانی سے محروم کررکھا ہے۔ جبکہ 2024 میں اس نے پاکستان کے حصے کے دریائوں پربھی تصرف حاصل کرلیا ہے۔