افغانستان کی وزارت خارجہ نےکابل میں پاکستانی سفیر کو طلب کرکےفضائی حملوں پر احتجاج کیاہے جبکہ افغان وزارت دفاع نے اتوار کوکہاہے کہ پاکستانی حملوں کا مناسب وقت پر ایک موزوں اور نپا تلا جواب دیا جائے گا۔ طالبان حکومت کے ایک سیکورٹی ذرائع نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ افغانستان پر حملوں میں80عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا پاکستان کا دعویٰ "جھوٹا" ہے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں بچوں سمیت کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں‘ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جاری بیان میں کہاہےکہ پاکستان نے گزشتہ رات صوبہ ننگرہار اور پکتیکا میں ہمارے بے گناہ شہریوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔افغان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی حکام کو واضح طور پر بتایا گیا کہ افغانستان کی فضائی حدود کا تحفظ اسلامی امارت کی شرعی ذمہ داری ہے اور ایسے حملوں کے سنگین نتائج کی ذمہ داری مخالف فریق پر عائد ہوگی ۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نےایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کی جانب سے فضائی حملوں کو افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اس عمل کو بین الاقوامی قوانین‘اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت قومی دفاع ملک کی خودمختاری اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی جائز اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے اور مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔