• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ یہودی ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا منصوبہ رکھتے ہیں اور قدم بقدم اُس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اِس مکروہ منصوبے کے مطابق دریائے نیل اور فرات کے درمیان سارےعلاقے، جن میں فلسطین، اسرائیل، اردن، لبنان، عراق اور شام شامل ہیں، اسرائیل کا حصّہ ہوں گے۔ فی الحال معنوی طور پر اس منصوبے پر پیش قدمی جاری ہےاور جغرافیائی طور پر اس کی تکمیل کی تدبیریں ہو رہی ہیں۔ شاید اِسے مبالغہ سمجھا جائے، مگر معاملہ اس سے بہت آگے کا، یعنی ایک ’’عالمی یہودی حکومت‘‘ قائم کرنا ہے۔

یہودی بڑوں کے پروٹوکولز پڑھیں، تو پتا چلتا ہے کہ عسکری، اقتصادی، اخلاقی اور تہذیبی و ثقافتی پہلو سے اِس منصوبے پر پیش قدمی جاری ہے۔ ہم جسے مغربی تہذیب کہتے ہیں، وہ امریکا اور یورپ کی دو تین صدیاں پہلے تک کی تہذیب نہیں، بلکہ یہ وہ تہذیب ہے، جس کی نقشہ گری یہودیوں نے کی تھی۔ بہرحال، اِن منصوبوں کے عملی امکانات دیکھیں، تو صرف ایک بدکار آدمی کے حلقۂ اثر پر غور کر لینا چاہیے کہ اس اثر کا دائرہ کہاں کہاں تک پھیلا ہوا تھا۔

برطانیہ کے شاہ چارلس سوم کا بھائی اینڈریو اُس کے دوستوں میں سے تھا (شاہ چارلس نے بھائی کے اس اسکینڈل کی خبریں آنے کے بعد اُس کے سارے شاہی القابات واپس لے لیے) اور برطانیہ کے شاہ چارلس نے اپنے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کے خلاف جو اِتنا سخت ایکشن لیا، اُس کی وجہ صرف جیفرے ایپسٹین سے تعلقات یا اُس کے جزیرے میں عیاشی کے لیے جانا نہیں تھا، بلکہ بدکارایپسٹین کے بچّوں سے جنسی زیادتی کا جرم سامنے آنے کے بعد بھی اُس سے تعلقات قائم رکھنا شاہی خاندان کے لیے بہت سے مسائل پیدا کرسکتا تھا۔

اِس سے برطانیہ کے شاہی خاندان کے دامن پر داغ تو لگا ہی ، 2010ء کے عرصے کی جو ای میلز منظرِ عام پر آئیں، اُن سے اینڈریو کی بےحیائی اور بدکرداری بھی نمایاں طور پر سامنے آئی۔ ان ای میلز سے یہ تاثر بھی لیا گیا کہ اینڈریو اپنے لیے ’’بلند پروازی‘‘(Rise above) کے منصوبے بھی بناتا رہا تھا، جس سے شاہ چارلس کو محسوس ہوا کہ بھائی اُس کی جگہ لینا چاہتا ہے۔

مزید برآں، برطانیہ کے خصوصی تجارتی سفیر کی حیثیت سے اینڈریو نے مُلک کی حسّاس تجارتی اور مالی معلومات، خاص طور پر’’افغان جنگ میں برطانیہ کی شرکت کا مقصد، امریکا کی طرح صرف روس کی شکست نہیں تھا، بلکہ وہاں موجود معدنیات کے خزانوں کے حوالے سے برطانیہ کے اپنے منصوبے تھے‘‘ جیفرے کو فراہم کی تھیں۔

اینڈریو کی طلاق یافتہ بیوی سارہ فرگوسن کے بھی ایپسٹین سے دوستانہ تعلقات تھے۔ اِن تعلقات کا اندازہ اِس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ جیل میں تھا، تب بھی سارہ فرگوسن اُسے ای میل بھیج کر اپنے مالی معاملات سے متعلق مشورے اور مدد لیتی تھی۔ اثر و رسوخ کے لحاظ سے ناروے کے بادشاہ کے بعد دوسرے نمبر کا اہم ترین شخص، Thorbjorn Jagland بھی ایپسٹین کے حلقے کا آدمی تھا۔

ایپسٹین اپنے قائم کردہ فحاشی و بدکاری کے اس اڈّے کو کئی مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا، جب کہ متعدّد بڑی بڑی شخصیات یہاں اپنا دامن اور منہ کالا کرنے آتی تھیں۔ فائلز کے مطابق امریکا کا سابق صدر بل کلنٹن ایپسٹین کے جنسی مرکز میں جاتا اور مطالبہ کرتا کہ اسے 12 سے 14 سال تک کی کنواری لڑکیاں فراہم کی جائیں۔ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سن دو ہزار کے بعد کے عرصے میں ایپسٹین کے ساتھ بہت قریبی تعلقات رہے۔

ٹرمپ کا یہودی داماد اور بہت سے اہم معاملات میں مشیر، Jwrid Kushner بالواسطہ طور پر ایپسٹین کا شاگرد بھی رہا۔ یہاں تک کہ ٹرمپ اور ایپسٹین کے ذاتی اور کاروباری تعلقات سے متعلق امریکی عوام بھی جانتے تھے۔ ایپسٹین نے جب دس اگست 2019ء کو جیل میں خُودکُشی کی، اُس وقت ٹرمپ ہی امریکا کے صدر تھے۔ اُس کی خُود کُشی کا معاملہ حد درجہ مشکوک تھا۔ 

تب ہی بچّے بچّے کی زبان پر تھا کہ ’’Epstein did not kill himself‘‘ گول کہتے ہیں، ایپسٹین نے خُود کُشی نہیں کی، اُسے مارا گیا۔ مائیکروسافٹ کے بانی بِل گیٹس اور ایکس (ٹویٹر) کے منتظمِ اعلیٰ، ایلون مسک سمیت متعدّد کھرب پتیوں کے ساتھ ایپسٹین کے گہرے تعلقات تھے اور وہ اس کے اڈّے پر بہ سہولت آتے جاتے تھے۔ بھارت کے معروف کھرب پتی صنعت کار انیل امبانی، ہردیپ سنگھ پوری، راوی منتھا اور دیپک چوپڑا کے علاوہ بالی وُڈ کے اداکار اور فلم ساز بھی اُس کے رابطے میں تھے۔

جب کہ انتہائی دُکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے لیےدنیا کی مقدّس ترین سرزمین کے حاکموں کے بھی اُس سے گہرے تعلقات تھے۔ ہمارے بہت قریبی خلیجی دوست اور مُحسن ریاست کے بااثر افراد اس کے دوستوں میں شامل تھے۔ اِسی دوست مُلک کی ایک خاتون سفارتی اہل کار سے تو ایپسٹین کے اِتنے گہرے مراسم تھے کہ وہ اس سے بے تکلّفانہ کم عُمر لڑکیوں کی فراہمی کا تقاضا کرتا۔ دُبئی کا ایک عیاش مال دار، سلطان احمد بن سلیمان بھی جیفرے کے دوستوں میں سامل تھا۔ واضح رہے، نئی فائلز سامنے آنے کے بعد اُس کی کمپنی نے اُسے فارغ کر دیا ہے۔

قرآنِ مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور بنی اسرائیل کا ذکر سب سے زیادہ ہے۔ تلمود کی روایت کے مطابق صرف جن یہودیوں نے مصر سے ارضِ مقدس کی طرف ہجرت کی، اُن کی ہدایت کے لیے اڑتالیس پیغمبر بھیجے گئے۔ قرآنِ پاک کے مطابق اُنہوں نے نہ صرف اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا، بلکہ اُن میں سے بعض کو قتل کیا۔ آج بھی عملی طور پر یہ قوم پیغمبروں کی تعلیمات پامال کر رہی ہے۔ اس قوم کا ذہن اور کردار صدیوں پہلے کی طرح غلیظ، سفّاک اور گھناؤنا ہے۔ مغربی تہذیب اِسی قوم کی تخلیق ہے، جس کا چہرہ باہر سے روشن، لیکن اندر سے داغ داغ اور مکروہ ترین ہے۔

شیطان صفت، جیفرے ایپسٹین کا خاندان خالص امریکی نہیں تھا۔ صرف ایک نسل پہلے یہ امریکا میں آ کربسے تھے۔ ایپسٹین20 جنوری 1953ء کو نیویارک کے ایک عام سے یہودی گھرانے میں پیدا ہوا، وہیں پلا بڑھا اور پرائمری تعلیم حاصل کی۔ اِس کی والدہ کا نام پولین اسٹولوفسکی اور باپ کا نام پیمر جارج ایپسٹین تھا۔ ماں گھریلوعورت تھی اورباپ نیویارک کے شہری پارکس کی دیکھ بھال کرنے والے محکمے میں مالی تھا۔ 1969ء میں جب وہ سولہ سال کا تھا، اُس نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

بعدازاں، نیویارک یونی ورسٹی میں ریاضیاتی سائنس کے مضمون میں داخلہ لیا اور 1971ء سے1974 ء کے عرصے میں زیرِ تعلیم رہا، لیکن ڈگری حاصل نہ کرسکا۔ مین ہٹن کے ڈالٹن اسکول میں کسی کی سفارش پر درس و تدریس شروع کی، لیکن ناقص کارکردگی کی وجہ سے وہاں سے بھی جلد نکال دیا گیا۔ اس کے بعد اپنے ایک شاگرد کے والد کی سفارش پر بیئر اسٹریم کے ایک بینک میں ملازم ہوا۔1978ء سے 1981ء تک یہ نوکری کی، مگر وہاں سے بھی فارغ کر دیا گیا۔ 

وہیں چھوٹےچھوٹے قرض لے کر 1992ء میں اس نے ’’جے ایپسٹین اینڈ کمپنی‘‘ کے نام سے اپنی ایک فرم قائم کی اور یہاں سے اس کے اونچی سوسائٹی کے لوگوں سے تعلقات قائم ہونے شروع ہوئے۔ ریاضی کے مضمون میں مہارت کی بنیاد پر وہ مال دار لوگوں کو ٹیکس سے بچنے کے طریقے سکھاتا تھا۔ یوں کاروباری دنیا میں اس کے تعلقات کا دائرہ وسیع ہوا اور بڑے بڑے سرمایہ داروں سے مراسم قائم ہوگئے۔

بڑی یونی ورسٹیز کے محقّقین اور اسکالرز بھی اس کے رابطے میں تھے، جس پر ہارورڈ یونی ورسٹی نے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔ بہرکیف، اُس نے مختصر عرصے میں اِتنی دولت جمع کرلی کہ ورجنز آئی لینڈز میں ستّر ایکڑ رقبے کا ایک ذاتی جزیرہ خرید لیا اور اسے بالکل الگ تھلگ جگہ بنا کر اس جگہ کو کم عُمر لڑکوں اور 12 سے14 سال کی نوخیز لڑکیوں سے جنسی ہوس کی تسکین کا مرکز بنا دیا۔ اس نے ایسے بچّوں کو ورغلانے، لالچ دے کر لانے کے لیے عورتیں اور مرد بطور ایجنٹ رکھے ہوئے تھے۔

بڑے سرمایہ دار، عُہدے دار، صاحبانِ طاقت و اقتدار اس کے مرکز میں باقاعدہ آتےجاتے تھے۔ نیز، ہالی وُڈ کے فلمی ستارے بھی اس کے جزیرے کی رونق بڑھاتے رہے۔ بعدازاں، اس نے دو جزیرے مزید خریدے اور اُنہیں نئی شکل دے کر فحاشی کے مراکز میں تبدیل کردیا۔

اس کریہہ فطرت شخص نے کنواری لڑکیوں کی سپلائی کے لیے عورتوں کا پورا ایک نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا، جن میں سے بعض وہ تھیں، جنہیں اس نے اپنے جزیرے میں’’قیدی‘‘ بنا کر رکھا ہوا تھا، جب کہ اس نیٹ ورک کا بدترین کردار، گیلین میکسویل نامی عورت تھی، جس کی معاونت سارہ کیلن، نائلہ مرسین کوور، لزلے گروف اورانڈریانا روس نامی خواتین کرتی تھیں۔

ابتداً فلوریڈا کے پام بیچ پر اس نے کچھ جائیداد بنائی اور اس کے جنسی جرائم کا آغاز وہیں سے ہوا۔ واضح رہے، بل گیٹس کی بیوی کے اُس سے طلاق لینے کا ایک سبب، اُس کے جیفرے ایپسٹین سے تعلقات بھی بتایا جاتا ہے۔

دو عشروں میں اس شیطان صفت آدمی نے دو ہزار سے زیادہ معصوم بچّوں کو اپنی اور اپنے خاص مہمانوں کی جنسی ہوس کے لیے استعمال کیا اور میامی ہیرلڈ کی خاتون تحقیقاتی رپورٹر، Juli K. Brown نے سب سے پہلے اِس کے متعفّن گٹر کے اوپر سے ڈھکن اُٹھایا۔ اس بہادر خاتون صحافی نے2017ء کے اواخر میں بڑی جرأت کے ساتھ نیویارک اور بعض دوسرے شہروں میں گھوم پِھر کر80 کے قریب ایسی کم عُمر لڑکیاں تلاش کر لیں، جو جیفرے کے اڈّے پر جنسی ہوس کا نشانہ بنی تھیں۔ 2018ء کے نومبر میں اُس نے ’’Perversion of Justice‘‘ کے عنوان سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ ’’میامی ہیرلڈ‘‘ میں قسط وار شائع کرنی شروع کی، جس نے نہ صرف امریکا، بلکہ ساری دنیا میں تہلکہ مچادیا۔

یاد رہے، جیفرے ایپسٹین پر پہلے جو مقدمہ قائم ہوا تھا، اُس میں اُس کا جرم کم تردرجے پر ظاہر کیا گیا تھا۔ مطلب، ریاستی سطح پراُس پہ جو فردِ جرم عاید ہوئی، اُس میں جرم کی نوعیت اتنی خطرناک نہیں تھی، جس کا جیفرے ایپسٹین کو فائدہ ہوا، لیکن براؤن کی رپورٹ سامنے آنے پر عوامی غیض وغضب کو ہوا ملی۔ نیز، عدلیہ پر بھی سخت تنقید ہوئی۔

بعدازاں، اِسی رپورٹ کی روشنی میں جیفرے ایپسٹین کو جنسی استحصال اور انتہا درجے کی بدکاری کا مجرم قراردیا گیا۔ نتیجتاً 2019ء میں اسے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ خاتون صحافی کا کہنا تھا کہ محکمۂ عدل نے معاملے کی سنگینی سے چشم پوشی کی اور جرم کو کم تر درجے پر رکھ کر بذاتِ خُود ایک جرم کا ارتکاب کیا۔ اُس کی تحقیقاتی رپورٹ پر اُسے کئی انعامات واعزازات سے بھی نوازا گیا۔ جولی کے۔

براؤن نے واضح کیا کہ ’’اِس کیس میں حقائق تو مسخ کیے گئے، لیکن حیرت انگیز معاملہ یہ ہے کہ امریکا نے مُلکی سطح پر اس ایشو کو قابلِ اعتنا ہی نہ سمجھا۔ جب کہ ریاستی سطح پر جو تحقیقات ہوئیں، اُن کا فائدہ جیفرے ہی کو ہوا۔‘‘ تاہم، اب امریکا کے محکمۂ عدل کی طرف سے جاری ہونے والی لاکھوں دستاویزات سے اِس کے گھناؤنے جرائم سامنے آگئے ہیں۔

شواہدہیں کہ جیفرے ایپسٹین اسرائیلی جاسوس اور اسرائیلی خفیہ ایجینسی کا ایجنٹ بھی تھا۔ اُسے جاسوسی کی باقاعدہ تربیت دی گئی تھی۔ نام وَرسیاست دانوں، سابق امریکی صدور، اعلیٰ عہدےداروں، برطانیہ کے شاہی خاندان کے علاوہ امریکی سائنس دانوں اور یونی ورسٹیز کے اسکالرز کے ساتھ اُس کے تعلقات پر بےشمار سوال اُٹھ رہے ہیں کہ وہ آخر اِن تعلقات سے حاصل کیا کرنا چاہتا تھا، اس نے کتنی سرکاری اور سائنسی معلومات حاصل کیں اور کہاں پہنچائیں؟

اس کی خود کُشی سے متعلق بھی اندازے لگائے جارہے ہیں کہ خود کُشی رپورٹ میں جو جھول ہے، وہ یہ امکان ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجینسی نے اُسے جیل سے اغوا کر کے اسرائیل پہنچا دیا ہے۔ یہ’’انکشاف‘‘ تو فی الحال سازشی تھیوری ہی کے زمرے میں ہے، البتہ یہ طےہےکہ ایپسٹین ایک نہایت مکّار، بدفطرت، کریہہ ذہنیت شخص تھا۔

اُس کے سابق اسرائیلی وزیرِاعظم ایہود باراک سے قریبی تعلقات تھے، یہاں تک کہ ایہود باراک اُس سے مشورے کرتا تھا کہ اسرائیل کی آبادی میں مقامی فلسطینیوں کے مقابلے میں برتری کے لیے روس سےلاکھوں یہودیوں کوکیسےاسرائیل لایا جائے اور اُس نے پیوٹن سے بھی اِس سلسلے میں بات کی تھی۔

مقامِ شُکر ہے کہ پاکستان کے کسی سیاست دان یا کاروباری شخصیت کا ایپسٹین کے بدکاری کے اڈّوں پر جانا ثابت نہیں ہوا۔ البتہ، امریکی محکمۂ عدل نے حال ہی میں جو دستاویزات جاری کی ہیں، اُن میں عمران خان کا ذکراور ایک، دو تصاویر شامل ہیں۔ 

دراصل، گولڈ اسمتھ خاندان یہودی قوم کا محسن، سرپرست ہے اور ایپسٹین کے گولڈ اسمتھ سے گہرے مراسم تھے، اِس نسبت سے ممکن ہے، جمائما گولڈ اسمتھ سے بھی اِس کے کچھ روابط ہوں، لیکن جمائما کی اس سے کسی ملاقات یا ای میل کا تازہ فائلز میں ذکر نہیں۔

ہاں مگر عمران خان کی سیاسی اُٹھان پر وہ خوش تھا۔ اِن دستاویزات میں، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور سائبرکنسلٹنٹ زبیرخان کے نام آئے ہیں، لیکن اُن سے منسوب کسی جنسی جرم یا مالی بدعنوانی کا ذکر نہیں۔ نیز، طالبان سے اُس کے روابط کا ذکر، پولیو کے مرض کے حوالے سے ہے۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید