اسلام آباد(نیوزرپورٹر) وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی منگل کو دوحا میں قطر کےامیرشیخ تمیم بن حمد الثانی اور وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے ملاقاتیں‘ چیف آف آرمی اسٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈمارشل عاصم منیر اور اسحٰق ڈار بھی شریک ‘خطے کی صورتحال ‘علاقائی مسائل بشمول غزہ میں پیشرفت اور خلیج کی سلامتی کے وسیع تر امور پرتبادلہ خیال ‘تجارت‘ سرمایہ کاری‘ توانائی ‘ دفاع‘ افرادی قوت و لیبر اور ثقافتی شعبے میں تعاون بڑھانے پرزوردیاگیا‘ شہبازشریف قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود سے بھی ملے ‘ اس دوران دفاع اور سکیورٹی میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال اورخطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیاگیا جبکہ شہباز شریف اور قطر کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے پاکستان اور قطر کے درمیان تجارت‘ سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مزید وسعت دینےکے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے متعلقہ حکام پر مشتمل ٹاسک فورس کا اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے‘علاوہ ازیں شہباز شریف سے قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے وفد کی بھی ملاقات ہوئی جس میں بزنس ٹو بزنس تعلقات کے فروغ کیلئے کاروباری اداروں اور کاروباری افراد کے درمیان روابط آسان بنانے کیلئے خصوصی کوششوں پر اتفاق کیاگیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے منگل کو دوحا میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ شیخ تمیم بن حمد الثانی نے اقتصادی شراکت داری کو اعلیٰ اسٹریٹجک سطح تک بڑھانے کے لئے قطر کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ شہباز شریف نے امیر قطر کو پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ کیا جسے شیخ تمیم نے بخوشی قبول کر لیا۔ علاوہ ازیں شہباز شریف نےگزشتہ روزقطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی سے ملاقات کی۔ملاقات میں اسحاق ڈار‘فیلڈ مارشل سید عاصم منیرودیگربھی موجودتھے۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی اور علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، افرادی قوت و لیبر اور ثقافتی شعبے میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی اور ان تمام شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ ٹاسک فورس کو لازمی قرار دیا گیا۔