پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا حکومت نے سابق وزیر اعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار علی امین گنڈاپور سے مبینہ طور پر سکیورٹی واپس لے لی ہے تاہم وزیراعلیٰ ہاوس پشاور نے علی امین گنڈاپور سے سکیورٹی واپس لینے کی خبروں کی تردید کی ہے، تحریک انصافکے پارلیمانی پارٹی واٹس ایپ گروپ میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ رات کو گیارہ بجے وزیرِ اعلیٰ کے ڈپٹی سی ایس او نے میرے سکیورٹی اہلکاروں کو کال کی اور کہا کہ سی ایس او کا حکم ہے کہ آپ سب کلوز ہوجائیں، علی امین گنڈاپور کے مطابق میرے پاس صوبائی حکومت کی ایک جیمر اور ایک ڈبل کیبن گاڑی تھی اور اس گاڑی کے ساتھ 14 اہلکار بھی تھے، علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ان اہلکاروں نے مجھ سے کہا تو میں نے کہا بس کلوز ہوجائیں، یہ اس معاملے کی اصل حقیقت ہے۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق اگر اب مجھے یہ سکیورٹی واپس دی بھی گئی تو واپس نہیں لوں گا اور وزیراعلیٰ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب اس سکیورٹی کو مجھے واپس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں،دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے پریس سیکرٹری نے ایک بیان میں سکیورٹی واپس لینے کی خبروں کی تردید کی ہے۔