کراچی ( اسٹاف رپورٹر)سندھ کابینہ کا اجلاس ‘نو تشکیل شدہ سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا) کے چیئرمین اور اراکین کی تقرری کی منظوری، رفیق احمد شیخ چیئرمین سیپرا مقرر ، فائر فائٹنگ کےلیے 100 فائر ٹینڈرز سمیت 33.7 ارب روپے کا سامان خریدنے کی منظوری‘ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو جدیدبنایاجائےگا‘زرعی مزدور خواتین کو مساوی اجرت، زچگی مراعات دینے کے قانون کی بھی منظوری‘گل پلازہ کے تاجروںکی بحالی کےلیے 7 ارب اور کے ایم سی کی سڑکوں کےلیے 8ارب منظور‘سندھ فیکٹریز ایکٹ کی دفعہ 57 میں ترمیم ‘سندھ میں اب کوئی بالغ مزدور روزانہ نو گھنٹے سے زائد کام نہیں کرے گا ۔تفصیلات کے مطابق منگل کووزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے کے فائر فائٹنگ اور ایمرجنسی رسپانس نظام کو جدید بنانے اور نیا ابتدائی انتباہی عوامی الرٹ سسٹم متعارف کرانے کے لیے 33.7 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور سندھ ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 کو جدید بنانے کے لیے کئی ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی۔ کابینہ نے حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) انتظام کے تحت خصوصی آلات اور گاڑیاں حاصل کرنے کے لیے چینی قونصل خانے سے رابطہ کرنے کی منظوری دی۔خریداری میں 100 فائر ٹینڈرز، 35 واٹر باؤزرز، خصوصی اسنارکلز اور 50 آل ٹیرین فائر وہیکلز شامل ہیں۔ جدید فائر فائٹنگ کے تحت آٹھ فائر فائٹنگ ڈرونز، 12 ملٹی پرپز ڈرونز اور نیا ابتدائی انتباہی عوامی الرٹ سسٹم حاصل کیا جائے گا۔منصوبے کی مجموعی لاگت 33.7 ارب روپے ہے، جو تین مالی سالوں میں آلات، انفراسٹرکچر اور افرادی قوت پر خرچ کی جائے گی۔ سندھ فیکٹریز ایکٹ 2015 کی دفعہ 10 میں ترمیم کے تحت فیکٹری مالکان کو آغازِ کار کا نوٹس آن لائن جمع کرانا لازمی ہوگا۔