تہران (نیوزڈیسک )ایران کی 8جامعات میں طلبہ کا حکومت مخالف احتجاج ‘پولیس سے جھڑپیں ‘ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ طلبہ کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہےتاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مقدس مقامات اور ایرانی پرچم دو سُرخ لکیریں ہیں‘ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں غصے میں ہم یہ لکیریں عبور نہ کر جائیں۔تفصیلات کے مطابق ایران کی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی شناختی تفصیلات جمع کر رہے ہیں۔تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں احتجاجی مظاہرین اور حکومت کے حامی گروہوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں‘پولیس کو یونیورسٹی کے باہر تعینات کیا گیا تھا اور یونیورسٹی کے اپنے سکیورٹی اہلکار سیاہ لباس پہننے والے افراد (مظاہرین) کے نام نوٹ کر رہے تھے‘شہید بہشتی یونیورسٹی میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے کے بعد بھی کچھ تصاویر اور ویڈیوزمنظرعام پر آئی ہیں‘تہران کی شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے صدر کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف اور حکومت کے حامی دونوں گروہوں نے غیرقانونی ریلیاں نکالیں، اس لیے ہم نے دونوں گروہوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔