ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے حق سے دستبردارنہیں ہوں گے۔
ان کا بھارتی میڈیا کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر سوال کا جواب دینے، ہرتشویش دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے تیار ہیں جس کے جواب میں پابندیاں اٹھانا ہوں گی۔
انہوں نے کہا ہے کہ آج ہونے والے مذاکرات میں جوہری معاملے پر منصفانہ اور متوازن حل نکلنے کی امید ہے۔
ایرانی وزیرِخارجہ نے کہا کہ گزشتہ سال جون میں مذاکرات کے دوران اسرائیل نے ایران پرحملہ کیا تھا اور ایران پر اسرائیلی حملے میں امریکا بھی شریک ہوا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ جارحیت کے زخم اب بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں تاہم ایران جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے پُرعزم رکن ہے۔
ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ہم نے جوہری ہتھیار نہ رکھنے کو قبول کیا ہے اور ہمیں پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کے مکمل حقوق حاصل ہیں۔
انہوں نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا جنگ کی مخالفت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ خطے کے ممالک کو یقینی بنانا ہو گا کہ ان کی زمین، فضائی حدود اور سمندر ایران کے خلاف استعمال نہ ہوں لیکن اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطےمیں امریکی فوجی اڈے ہمارا جائز ہدف ہوں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ سے ایران کے امریکا تک پہنچنے والے میزائل رکھنے کے امریکی دعوے پرسوال کیا گیا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ ہمیشہ فیک نیوز کی شکایت کرتے ہیں، اب وہ خود فیک نیوز کا شکار بن گئے ہیں، ہم لانگ رینج میزائل نہیں بنا رہے، ہمارے میزائلوں کی رینج محدود ہے اور ہمارے میزائل ملکی دفاع کے لیے ہیں۔