اسلام آباد(نیوزرپورٹر/جنگ نیوز) پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال کارروائیوں کیخلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق شروع‘پاک فضائیہ کے افغانستان پر حملے ‘ ننگرہار میں بڑا اسلحہ ڈپوتباہ کردیا۔وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کا کہناہے کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 36 کارندے جہنم واصل ہو چکے اور متعددزخمی ہیں جبکہ پاک فوج کے دو جوان شہید اورتین زخمی ہوئےہیں ‘سکیورٹی ذرائع کے مطابق اب تک 58خوارج مارے جاچکے ہیں،100سے زائد زخمی بھی ہوئے۔تین افغان فوج کی بٹالین اور کئی ٹینک بھی تباہ ہوگئے۔وزارت اطلاعات کے مطابق چترال‘ خیبر‘ مہمند‘ کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں افغان طالبان فورسز کو مؤثر اور سخت جواب دیتے ہوئے کئی چوکیوں اور عسکری سازوسامان کو تباہ کرکے بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا ہے۔وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے صورتحال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبر پختو نخوا سے ملحقہ سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائےگااورملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگا۔ ادھر جیونیوز کے پروگرام’’ آج شاہ زیب زادہ کے ساتھ‘‘میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھاکہ کسی کو پاکستان کا امن چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے‘جیسا جواب مشرقی سرحد پر دیا تھا ویسا ہی بھرپور جواب مغربی سرحد پر دیں گے۔قبل ازیںوزیر اعظم پاکستان کے غیرملکی میڈیا کے لیے ترجمان مشرف زیدی نے افغان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہاتھا کہ کوئی بھی پاکستانی چوکی نہ تو قبضے میں لی گئی اور نہ ہی اسے نقصان پہنچا ہے۔اب تک کوئی پاکستانی فوجی گرفتار ہوانہ ہی شہید ‘اب تک پاکستان کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کے دعوے صرف انڈیا کے افغانستان میں موجود ایجنٹس کے خیالات سے زیادہ کچھ نہیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی کاروائیوں کا بھرپور و مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور جاتا رہے گا ۔افغان طالبان رجیم اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جھوٹا و بے بنیاد پروپیگنڈاکیا جارہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں‘خوش فہمیوں پر مبنی ایسی تمام افواہیں خفت مٹانے کیلئے پھیلائی جارہی ہیں۔عملی میدان میں شکست فاش کے بعد افغان طالبان رجیم جھوٹ اور پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی ہے‘طالبان رجیم کو ہر گز جھوٹ کے پیچھے چھپنے نہیں دیں گے۔افغانستان کو ماضی کی پسپائیوں سے سبق سیکھنا چاہئے۔ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے ہر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے رہیںگے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی‘پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر میں بھرپور جواب دیا، چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نےنشانہ بنا کر تباہ کردیا۔ سکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں، افغان طالبان رجیم کے44اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں ۔پاک فوج کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی پر حملے شروع کر دیے جس میں خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوگئےجبکہ ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایاگیاہے ‘سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی، پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے، پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے‘ ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے صورتحال کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبر پختونخوا سے ملحقہ سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا۔