• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاکھوں امریکی اپنے ہی ملک کو کیوں چھوڑ رہے ہیں؟؟

کراچی (رفیق مانگٹ) لاکھوں امریکی اپنے ہی ملک کو کیوں چھوڑ رہے ہیں؟؟ شہریوں کی ریکارڈ ہجرت، کئی دہائیوں بعد منفی مائیگریشن، مہنگائی اور معیارِ زندگی مسائل، بیرونِ ملک منتقلی میں تیز اضافہ، امریکی تعلیم، ریموٹ ورک اور ریٹائرمنٹ کے لیے دنیا بھر کا رخ کرنے لگے، یورپ کے بڑے شہروں میں امریکیوں کی بڑھتی آبادکاری، 2025 میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کا انخلا، یورپی ممالک کے نرم ویزا قوانین اور ٹیکس مراعات امریکیوں کے لیے کشش بن گئے، شہریت ترک کرنے اور غیر ملکی پاسپورٹ درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ، ٹرمپ دور کی سیاسی تقسیم بھی رجحان سے جڑی ہے۔ دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں مہنگائی، سیاسی کشیدگی اور طرزِ زندگی کے مسائل کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد ریکارڈ سطح پر ملک چھوڑ کر یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا منتقل ہو رہی ہے، جس سے امریکا پہلی بار کئی دہائیوں بعد منفی خالص ہجرت کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکا، جو تاریخی طور پر تارکینِ وطن کی منزل سمجھا جاتا تھا، اب شہریوں کی بڑھتی بیرونِ ملک ہجرت کے باعث ایک نئے رجحان سے گزر رہا ہے۔ 2025 میں اندازاً ڈیڑھ لاکھ افراد کے انخلا کے ساتھ امریکا میں وہ صورتحال پیدا ہوئی جو آخری بار عظیم کساد بازاری کے دوران دیکھی گئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی اور ویزا پابندیوں کو اس رجحان کا سبب قرار دیا، تاہم اصل تبدیلی یہ ہے کہ امریکی شہری خود بڑی تعداد میں دوسرے ممالک منتقل ہو رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید