کراچی(رفیق مانگٹ)امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد حملے کی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے کارروائی کی تو عالمی توجہ فوری طور پر آبنائے ہرمز پر مرکوز ہو گئی۔ ایران کے لیے ممکنہ جوابی آپشنز میں اس تنگ آبی گزرگاہ میں رکاوٹ ڈالنا شامل ہے، جہاں سے دنیا کی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی گزرتا ہے۔ حملوں کے بعد متعدد آئل اور گیس ٹینکروں نے رفتار کم کر دی، کچھ نے یو ٹرن لیا جبکہ بعض جہاز آبنائے کے باہر رک گئے۔ آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز، دنیا کی 25 فیصد تیل، 20 فیصد ایل این جی سپلائی خطرے میں،ایک دن کی ممکنہ بندش سے تیل 120 تا 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے، برینٹ کی اوسط قیمت 67 ڈالر تھی،2025 میں روزانہ 16.7 ملین بیرل خام تیل کی ترسیل، آبنائے کی بندش سے عالمی منڈی متاثر ہونے کا خدشہ، حملوں کے بعد جہازوں کو ریڈیو پیغام۔۔۔گزرنا ممنوع۔۔، مگر باضابطہ بندش کی تصدیق نہیں،متعدد ٹینکروں نے داخلہ روکا، کچھ نے یو ٹرن لیا، انتباہ کے باوجود 7 جہاز خارج اور 6 داخل ہوئے،جاپانی کمپنی نے بیڑے کو آبنائے سے دور رہنے کی ہدایت کر دی،ماہرین کے مطابق مکمل بندش کے بغیر بھی میزائل، ڈرون، بارودی سرنگوں اور جی پی ایس مداخلت سے خلل ممکن،سعودی عرب، عراق، کویت، یو اے ای، ایران اور قطر کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ پر منحصر،80 فیصد سے زائد ترسیلات چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا کو، مکمل بندش عالمی سپلائی اور معیشت کے لیے بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے،آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ اس کے شمال میں ایران اور جنوب میں متحدہ عرب امارات اور عمان واقع ہیں۔2025 میں روزانہ اوسطاً 16.7 ملین بیرل خام تیل اور کنڈینسیٹ اس راستے سے منتقل ہوا۔