کراچی (عبدالماجد بھٹی) آئی سی سی ایونٹس میں پاکستان کے سپر اسٹارز کی چمک مدھم پڑگئی۔ سیمی فائنل تک نہ پہنچنے پر کپتان سلمان علی آغا نے ذمہ داری قبول کرلی۔ ٹی 20 ورلڈکپ میں حصہ لینے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پندرہ میں سے 8کھلاڑی شاہین آفریدی، نسیم شاہ، بابر اعظم، ابرار احمد، شاداب خان، صائم ایوب، عثمان خان اور فخر زمان دو سال پہلے امریکا میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کا حصہ تھے ۔ یہ بڑے بڑے نام تو کچھ نہ کرسکے البتہ اوپنر صاحبزادہ فرحان نے ہر محاذ پر تن تنہا لڑتے ہوئے میگا ایونٹ میں تاریخ رقم کردی۔تین سال میں پاکستان چار آئی سی سی ٹورنامنٹس کے سیمی فائنل میں جگہ بناسکا۔ ان میں ٹی 20 ورلڈکپ 2024 امریکا ، 2026 بھارت وسری لنکا، 2023 ون ڈے ورلڈ کپ بھارت اور گذشتہ برس کی چیمپئنز ٹرافی شامل ہیں۔ خواتین کرکٹ ٹیم کی بھی کارکردگی مایوس کن رہی۔ پاکستان نے2022 میں آسٹریلیا کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا سیمی فائنل کھیلا تھا۔ ادھر ورلڈ کپ میں ناکام رہنے والے کپتان سلمان علی آغا شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے بطور کپتان ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ کوچ کے ساتھ مل کر تمام فیصلے کیے۔ ہم ہی سلیکشن میں شامل تھے اور 11 کھلاڑی ہم ہی نے میدان میں اتارے۔ سری لنکا کے خلاف میچ کے بعد انہوں نے کپتانی چھوڑنے سے متعلق سوال پر کہا کہ اس متعلق کوئی بھی فیصلہ وطن واپس جا کرجلد کروں گا۔ بیٹنگ میں صاحبزادہ کے علاوہ مجھ سمیت کوئی بیٹر کامیاب نہیں ہوا۔ آخری میچ میں دھواں دھار 84رنز بنانے والے فخر زمان کو ابتدائی میچز میں نہ کھلانے پر کپتان نے توجیح پیش کی کہ وہ فارم میں نہیں تھے۔ دلچسپ بات ہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان سیمی فائنل میں کوالی فائی نہ کرسکا۔ تاہم صاحبزادہ فرحان نے ویرات کوہلی کا ریکارڈ توڑ کرنئی تاریخ رقم کر دی۔ انہوں نے اس ورلڈ کپ کی سات میچوں کی چھ اننگز میں 76کی اوسط سے383 رنز بنائے اور ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بن گئے ۔یہ اعزاز ان سے قبل 319 رنز کے ساتھ ویرات کوہلی کے پاس تھا۔ جو انہوں نے 2014 میں قائم کیا تھا۔ لیکن ان کے علاوہ پاکستانی بیٹنگ بری طرح ناکام ہوئی۔ آل راؤنڈر شاداب خان، سلمان آغا، محمد نواز اور صائم ایوب کے اعداد وشمار ناکامیوں کی داستان سناتے ہیں۔ شاداب خان نے ورلڈ کپ میں 118 رنز بنائے اور 5 وکٹیں حاصل کیں۔ کپتان سلمان علی آغا 7 میچوں میں صرف 60 رنز بنا سکے اور ایک وکٹ حاصل کی۔ محمد نواز نے 7 میچوں صرف 15 رنز بنائے اور 6 وکٹیں لیں۔ صائم ایوب نے 6 وکٹیں لیں لیکن بطور اوپنر صرف 70 رنز بنائے۔ فخر زمان کو گروپ میچوں میں نہیں کھلایا گیا انہوں نے تین میچوں کی دو اننگز میں84، اور 25 رنز یعنی 109، بابر اعظم نے چھ میچوں کی چار اننگز میں91، صائم ایوب 70، عثمان خان 60، سلمان علی آغا 60 اور شاہین آفریدی نے43رنز بنائے۔ بولنگ میں عثمان طارق نے دس اور شاہین آفریدی نے8 وکٹ حاصل کئے ۔