کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )سوئی ناردرن نے کچھ صنعتی صارفین کو گیس کی سپلائی معطل کردی ہے جو کہ قطر سے توانائی کی برآمدات پر سب سے زیادہ انحصار کرنے والی معیشتوں میں سے ایک پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔پاکستان کویت انویسٹمنٹ کے ریسرچ ہیڈ سمیع اللہ طارق کا کہنا ہے کہ درآمدی کوئلے جیسے سستے متبادلات پر منتقل ہونا "خوش قسمتی" ثابت ہو سکتا ہے۔تاہم، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے صارفین کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں کہا ہے کہ وہ بدھ کی رات سے کھاد کے کارخانوں کوآرایل این جی فراہم نہیں کر سکے گی۔ کمپنی کو اپنے سپلائر، پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کی جانب سے خلیج فارس میں تصادم شروع ہونے کے محض پانچ دن بعد سپلائی میں رکاوٹ کی اطلاع ملی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل تعطل یقینی طور پر تکلیف دہ اور مہنگا ثابت ہو گا۔رائسٹڈ انرجی کے تجزیہ کار مسانوری اوڈاکا کے مطابق، اگر ایل این جی کے پانچ یا اس سے زیادہ بحری جہاز متاثر ہوئے تو صورتحال "سنگین" ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "موجودہ سپاٹ قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں جو پاکستان ادا کرنے کو تیار ہو گا۔