کراچی ( اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہےکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی، منظم جرائم، زمین مافیا اور غیر قانونی ہتھیاروں کیخلاف مربوط کارروائیاں جاری رکھیں، تمام غیر قانونی ہتھیار ضبط کئے جائیں، سندھ اپیکس کمیٹی کےاجلاس میں ، کور کمانڈر اور سینئر سول و فوجی حکام کی شرکت،DKUC قائم۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 33 ویں اپیکس کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد کراچی میں پیدا کشیدہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اجلاس میں حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ ریاست کی رٹ کو قائم رکھیں، غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کو بہتر بنائیں اور ضرورت پڑنے پر ہدفی کارروائیاں کریں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزیرِ داخلہ، کراچی کور کمانڈر اور سینئر سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی، منظم جرائم، زمین مافیا اور غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف مربوط کارروائیاں جاری رکھیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کا عمل جاری رکھا جائے اور انہیں اس کی پیش رفت سے باخبر رکھا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ سندھ فورینسک سائنس لیبارٹری دسمبر 2026تک مکمل کی جائے جس سے صوبے بھر میں تفتیشی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اسی کے ساتھ کاؤنٹر ٹیرر ازم اسکول کو فعال کر کے پیشہ ورانہ تربیت اور تفتیشی مہارت کو بہتر بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے کچہ کیلئے 9.49ارب روپے کا سماجی و اقتصادی ترقیاتی منصوبہ منظور کیا۔ منصوبے کے تحت ایک مخصوص ʼDistrict Katcha Uplift Cell’ (DKUC) قائم کیا جائے گا جو صحت، تعلیم اور انفرااسٹرکچر اسکیموں کی نگرانی کرے گا تاکہ طویل المدتی امن اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تین سرحدی کچہ علاقوں میں بہتر سیکیورٹی صورتحال حکومت کی ہتھیار ڈالنے کی پالیسی کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے لیکن پائیدار امن کے لئے مقامی کمیونٹی کے لئے ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔