اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد کی ماتحت عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ایک بڑی ہاوسنگ سوسائٹی کے وائس چیف ایگزیکٹو کرنل (ر) خلیل الرحمن کو دس سال قید بامشقت اور اڑھائی کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنا دی، عدم ادائیگی پر مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہو گی۔ عدالت نے منی لانڈرنگ سے حاصل شدہ جائیداد اور دیگر اثاثے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم بھی دے دیا۔ گزشتہ روز ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ اسلام آباد نصر من اللہ نے ٹرائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔ یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 19/2025 کے تحت انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ کرنل (ر) خلیل الرحمن پر 1.6 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام تھا، رقوم کو مختلف مالیاتی ذرائع اور تیسرے فریق کے ذریعے منتقل کر کے ان کی اصل حیثیت کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ مقدمہ کی تفتیش ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد نے کی اور مالیاتی شواہد، دستاویزی ریکارڈ اور بینکنگ ٹرانزیکشنز کے ذریعے جرم کو ثابت کیا۔ ملزم کی 18 سال کی تنخواہ کی مد میں آمدن 54.8 ملین روپے تھی جبکہ اس نے 1.6 ارب روپے حاصل کئے۔ دوران تفتیش ملزم کے نام پر چھ مہنگی گاڑیاں، قیمتی اراضی، پلاٹس، اپارٹمنٹس اور پانچ بینک اکاؤنٹس نکلے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم نے اپنا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تنخواہ کے علاوہ کاروبار اور پنشن سے بھی آمدن ہوئی لیکن وہ انکم ٹیکس ریٹرن، ویلتھ سٹیٹمنٹ، بزنس رجسٹریشن آڈٹ رپورٹس اور بزنس ٹرن اوور کا دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکا۔