• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قراردادِ پاکستان: تحریکِ آزادی کا اہم سنگِ میل

رابعہ فاطمہ

20ویں صدی کے آغاز میں برّ ِعظیم کے مسلمان ایک نازک مرحلے پر کھڑے تھے۔ 1857ء کی جنگ کے بعد سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر بدل چُکا تھا۔ مغلیہ سلطنت کا خاتمہ اور برطانیہ کا براہِ راست حکم رانی میں آنا مسلمانوں کے لیے نہ صرف نئے چیلنجز لے کر آیا بلکہ اُن کی سیاسی و سماجی پوزیشن بھی محدود کر دی۔

فوج میں ان کی نمائندگی کم ہوئی، انتظامیہ میں اثر و رسوخ گھٹ گیا اور تعلیمی اداروں میں جگہیں محدود ہو گئیں۔ یہ صرف وقتی پریشانی نہیں تھی بلکہ مستقبل کا ایک بڑا سوال بن چُکا تھا کہ اپنے مذہب، ثقافت اور سیاسی حقوق کی حفاظت کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟اِسی ضرورت نے 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کو جنم دیا۔ 

لیگ محض ایک سیاسی جماعت نہیں تھی، بلکہ مسلمانوں کے حقوق، صوبائی خودمختاری اور آئینی نمائندگی کے لیے ایک واضح فکری اور عملی پلیٹ فارم تھی۔ لیگ نے یہ باور کروایا کہ وقتی اصلاحات یا مشترکہ ڈھانچا مسلمانوں کے مفادات کے مستقل تحفّظ کے لیے کافی نہیں اور انہیں ایک مضبوط و منظّم حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ یہ سوچ بعد میں لاہور کی قرارداد میں بالکل واضح طور پر نظر آئی۔1909ء میں’’منٹو مارلے اصلاحات‘‘ نے مسلمانوں کو پہلی بار آئینی طور پر الگ نمائندگی فراہم کی۔ 

اِس سے قبل مسلمان اکثر اقلیت یا اکثریت کے اصول میں محدود سمجھے جاتے تھے، لیکن اب تسلیم کیا گیا کہ وہ ایک مخصوص سیاسی مفاد رکھنے والا گروہ ہیں، جس کی نمائندگی ضروری ہے۔ تاہم، مسلم قیادت نے فوراً محسوس کیا کہ یہ اصلاحات وقتی ہیں اور کسی بھی وفاقی ڈھانچے میں اکثریتی دباؤ کے تحت یہ تحفّظ مستقل نہیں رہے گا۔

1920ء کی دہائی میں خلافت اور عدم تعاون کی تحریک نے مسلمانوں کو وقتی اتحاد فراہم کیا، لیکن اختلافات برقرار رہے۔ 1928ء کی نہرو رپورٹ نے ان اختلافات کو مزید واضح کر دیا۔ اس سے مسلم قیادت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مشترکہ آئینی ڈھانچے میں مسلمانوں کے حقوق کا مستقل تحفّظ ممکن نہیں اور انہیں اپنے مطالبات کو قانونی اور آئینی زبان میں منظّم کرنا ہوگا۔

یہی فکری اور عملی بنیاد 1940ء کی قرارداد کی سمت متعیّن کرنے کے کام آئی۔1930ء کی دہائی میں علّامہ محمّد اقبال نے خطبۂ الہ آباد میں ایک واضح تصور پیش کیا کہ شمال مغربی ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے ایک ریاست ہونی چاہیے۔ اقبال نے قومیت کو صرف عدد یا جغرافیائی حیثیت سے نہیں بلکہ تہذیبی، مذہبی اور تاریخی بنیادوں پر سمجھایا۔ ان کے نزدیک اسلام صرف عقیدہ نہیں، ایک نظامِ حیات ہے۔ یہی فکری بنیاد بعد میں محمّد علی جناح کی قیادت میں عملی سیاست اور 1940ء کی قرارداد کے لیے راہ ہم وار کرنے کا سبب بنی۔

1857ء کے بعد کا برّعظیم

1857ء کے بعد برّ ِعظیم کے مسلمانوں کے سامنے ایک نئے زمانے کی حقیقت آ گئی تھی۔ مغلیہ سلطنت کے زوال اور برطانوی راج کے قیام نے اُن کی سیاسی و سماجی حیثیت محدود کر دی۔یہ تبدیلیاں مسلمانوں کے لیے صرف مشکلات ہی پیدا نہیں کر رہی تھیں، بلکہ ایک فکری اور سیاسی سوال بھی بن گئی تھیں کہ کیا وہ اپنی ثقافت اور مذہب پر مؤثر طریقے سے عمل کر سکتے ہیں؟

اِس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے مسلمانوں نے 19ویں صدی کے آخر میں اپنی تعلیمی و فکری پوزیشن کا بغور جائزہ لینا شروع کیا۔ سر سیّد احمد خان کی علی گڑھ تحریک اور دیگر علمی و فکری تحریکات نے مسلمانوں کو باور کروایا کہ جدید تعلیم اور سیاسی شرکت کے بغیر ان کی بقاء ممکن نہیں۔ 

اِسی سوچ نے آگے چل کر آل انڈیا مسلم لیگ کو ایک قانونی اور سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنے میں مدد کی، جس نے مسلمانوں کے مطالبات کو آئینی اور عملی شکل دینے کا راستہ کھولا۔ 1909ء کی منٹو مارلے اصلاحات، 1919ء کا ایکٹ اور 1935ء کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ، ہر ایک نے مسلمانوں کی آئینی نمائندگی میں معمولی، مگر اہم تبدیلیاں کیں۔1930ء کی دہائی میں مسلم سیاسی شعور ایک نئی سطح پر پہنچا۔ علّامہ محمد اقبال نے خطبۂ الہ آباد میں ایک مسلم ریاست کا تصوّر پیش کیا۔

1906ء سے 1935ء تک

1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ایک تاریخی موڑ تھا، لیکن یہ محض ایک سیاسی جماعت کی بنیاد نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا، جس نے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت، سیاسی مفادات اور آئینی حقوق کو واضح شکل دینے کا کام کیا۔ مسلم لیگ کے قیام کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کو اب کسی بھی مشترکہ آئینی ڈھانچے میں محض اقلیت یا اکثریت کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا بلکہ انہیں ایک مخصوص سیاسی مفاد رکھنے والا گروہ تسلیم کیا جائے گا، جس کی نمائندگی اور تحفّظ لازمی ہے۔

اِس سوچ نے مسلم سیاسی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ مسلم لیگ نے جلد ہی صوبائی خودمختاری اور الگ نمائندگی کو اپنی پالیسیز کا حصّہ بنالیا۔ 1909ء کی’’منٹو مارلے اصلاحات‘‘ نے مسلمانوں کو الگ نمائندگی کا جواز فراہم کیا، لیکن مسلم لیگ نے محسوس کیا کہ یہ اصلاحات وقتی ہیں اور کسی بھی وفاقی ڈھانچے میں اکثریتی دباؤ کے تحت یہ تحفّظ مستقل نہیں رہے گا۔ 

اِسی لیے اُس نے آئینی جدوجہد کو اپنی حکمتِ عملی کا مرکز بنایا تاکہ مسلمانوں کے حقوق قانونی اور سیاسی زبان میں محفوظ ہوں۔ 1916ء کا لکھنؤ پیکٹ مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان وقتی مفاہمت کا پہلا بڑا اقدام تھا۔ اِس مفاہمت نے مسلمانوں کو مختصر عرصے کے لیے سیاسی تعاون فراہم کیا، لیکن بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ خلافت تحریک اور بعد کی عدم تعاون تحریک نے مسلمانوں میں قومی شعور اور اتحاد پیدا کیا، مگر یہ اتحاد وقتی اور مخصوص حالات تک محدود تھا۔

اس نے یہ واضح کیا کہ مسلم سیاسی مفادات کی مستقل حفاظت کے لیے جُداگانہ اور منظّم حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ 1928ء کی نہرو رپورٹ نے مسلمانوں اور ہندو اکثریت کے درمیان آئینی اختلافات مزید نمایاں کیے۔ رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی اختیارات کی تقسیم کے مسائل نے مسلمانوں کو یہ باور کروایا کہ مشترکہ آئینی ڈھانچے میں مستقل تحفّظ ممکن نہیں۔ اِسی تناظر میں مسلم لیگ نے علیٰحدہ نمائندگی، صوبائی خودمختاری اور آئینی حقوق کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا۔ یہ اصول بعد میں 1940ء کی قرارداد میں نظریاتی اور عملی شکل اختیار کر گئے۔

قراردادِ لاہور

23 مارچ 1940ء کا دن برّصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی سفر میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ لاہور کے منٹو پارک میں منعقد ہونے والا مسلم لیگ کا یہ سالانہ اجلاس محض رسمی اجتماع نہیں تھا، بلکہ ایک آئینی اور فکری فیصلے کی بنیاد تھا۔ اس اجلاس میں مُلک بَھر سے نمائندے شریک ہوئے اور ان کی نظریاتی، سیاسی اور عملی مشاورت نے مسلمانوں کے مستقبل کے لیے ایک واضح نقشہ تیار کیا۔ اجلاس کی صدارت محمّد علی جناح نے کی، جو اُس وقت مسلم سیاست کے بلاشرکتِ غیرے قائد تسلیم کیے جاتے تھے۔

اس اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد نے مسلمانوں کے آئینی مطالبات کو پہلی بار قانونی زبان میں پیش کیا۔ قرارداد میں مسلم اکثریتی علاقوں کو’’آزاد ریاستوں‘‘ کے طور پر منظّم کرنے کی تجویز دی گئی اور ایک متحدہ مرکزی حکومت کے تصوّر پر تنقید کی گئی۔ 

متن میں واضح کیا گیا کہ برّصغیر کی سیاسی وحدت مصنوعی ہے کہ مسلمان اپنی مذہبی، تہذیبی اور تاریخی شناخت کے اعتبار سے ایک جُداگانہ قوم ہیں، جس کے لیے خودمختار انتظامی ڈھانچا ضروری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ قرارداد میں لفظ’’پاکستان‘‘ شامل نہیں تھا، لیکن اس کے متن نے مستقبل کی ریاستی ساخت کے لیے راہ ہم وار کر دی۔

قرارداد نے مسلمانوں کے مطالبات کو صرف اقلیت کے تحفّظ کے دائرے سے نکال کر قومی خود ارادیت کے دائرے میں منتقل کیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا، جو کسی عارضی سیاسی دباؤ کے نتیجے میں نہیں، بلکہ طویل مشاورت اور تجزیے کے بعد سامنے آیا۔ اجلاس کے دوران مختلف رہنماؤں کی تقاریر نے قرارداد کے نظریاتی اور عملی پہلو واضح کیے۔

محمّد علی جناح بار بار اِس امر پر زور دیتے رہے کہ مسئلہ صرف اکثریت و اقلیت کا نہیں، دو الگ الگ قوموں کا ہے۔ اِسی طرح علّامہ محمّد اقبال کے خطبۂ الہ آباد کو قرارداد کے فکری پیش خیمے کے طور پر پیش کیا گیا، جو مسلمانوں کے الگ سیاسی تشخّص کی بنیاد ہے۔ اس اجلاس کے بعد مسلم لیگ کی تنظیمی اور سیاسی فعالیت میں واضح اضافہ ہوا۔ 

مختلف صوبوں میں شاخوں کی توسیع، رُکنیت میں اضافہ اور جلسوں کا انعقاد ظاہر کرتا ہے کہ قرارداد محض نظری اعلامیہ نہیں رہی بلکہ مسلم سیاسی تحریک کی بنیاد بن گئی۔ 1946ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کی فیصلہ کُن کام یابی نے اِس امر کی تصدیق بھی کی کہ مسلمانوں کی اکثریت قراردادِ لاہور کی حامی ہے۔

قرارداد کے بعد سیاسی اقدامات اور تقسیمِ ہند

1940ء کی قرارداد نے مسلمانوں کے سیاسی مطالبات واضح کردئیے، لیکن عملی سیاست میں اس کے اثرات دیکھنا ابھی باقی تھے۔ خطّے کی سیاسی فضا تیزی سے بدل رہی تھی، جس پر برطانوی حکم ران آئینی و انتظامی معاملات میں زیادہ فعال نظرآنے لگے۔ 1942ء میں کرپس مشن کی تجویز نے ہندوستان کے لیے آئینی خاکہ پیش کیا، مگر مسلم لیگ نے اسے ناکافی قرار دیا، کیوں کہ اُس میں مسلمانوں کی خود مختاری یا الگ ریاست کے مطالبات واضح طور پر تسلیم نہیں کیے گئے تھے۔1946ء کے کیبنٹ مشن پلان میں وفاقی ڈھانچے کا تصوّر پیش کیا گیا، جس میں صوبائی گروپ بندی شامل تھی۔

ابتدا میں مسلم لیگ نے اِس منصوبے کو ایک وقتی حل کے طور پر قبول کیا، مگر جلد ہی واضح ہو گیا کہ اس سے مسلمانوں کے حقوق اور سیاسی شناخت کی مکمل ضمانت نہیں مل سکتی۔ اِس دوران لاہور کی قرارداد ہمیشہ ایک نظریاتی اور عملی حوالے کے طور پر پیش کی جاتی رہی، جس نے مسلم قیادت کو اپنے مطالبات کی بنیاد فراہم کی، تو ۔1946ء کے عام انتخابات نے مسلم لیگ کے موقف کو عوامی سطح پر مضبوطی بخشی۔ 

مسلم نشستوں پر اِس کی فیصلہ کُن کامیابی نے ظاہر کیا کہ مسلمانوں کی اکثریت نے الگ سیاسی تشخص اور خود ارادیت کے حق میں رائے دی۔ یہ انتخابات نہ صرف سیاسی کام یابی بلکہ قومی حمایت کا عملی ثبوت بھی تھے، جس نے بعد کی مذاکرات اور تقسیمِ ہند کے فیصلے کے لیے راہ ہم وار کی۔ سیاسی کشیدگی اور فرقہ وارانہ فسادات نے حالات مزید پیچیدہ بنا دیئے۔ 

برطانوی حکومت نے اقتدار کی منتقلی کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ مختلف سیاسی اور آئینی مذاکرات میں واضح ہوا کہ مسلم مطالبات کا صرف وفاقی ڈھانچا یا مشترکہ حکومت کے تحت حل ممکن نہیں۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیمِ ہند کی ضرورت اور مسلم ریاست کے قیام کے اصول زیرِ غور آئے۔

آخرکار،3جون 1947ء کے منصوبے کے تحت برّصغیر کی تقسیم کو تسلیم کر لیا گیا۔ یہ فیصلہ دراصل 1940ء کی قرارداد میں پیش کیے گئے اصولِ خود ارادیت کی عملی تصویر تھا۔ سات سال قبل پیش کی گئی فکری اور آئینی تجاویز ایک ریاستی حقیقت میں تبدیل ہو گئیں۔ اِس عمل نے واضح کر دیا کہ لاہور کی قرارداد صرف ایک نظریاتی اعلان نہیں تھی، بلکہ مسلمانوں کے سیاسی مستقبل اور قومی خودمختاری کی بنیاد تھی۔

1940ء کی قراردادِ لاہور محض ایک تاریخی دستاویز نہیں، بلکہ برّ ِعظیم کی مسلم سیاسی سوچ، فکری ارتقاء اور آئینی جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ یہ قرارداد اس بات کا اعتراف تھی کہ مسلمانوں کی اجتماعی شناخت، مذہبی تشخّص اور تاریخی روایت اُن کے سیاسی مطالبات کی بنیاد ہیں۔ اس نے مسلمانوں کو باور کروایا کہ ان کے حقوق کا تحفّظ صرف وقتی اصلاحات یا مشترکہ حکومتی ڈھانچے میں شامل ہونے سے ممکن نہیں، بلکہ انہیں خود مختار اور منظّم سیاسی اداروں کے ذریعے تحفّظ حاصل کرنا چاہیے۔

قرارداد کی سب سے بڑی اہمیت یہ تھی کہ اس نے مسلم سیاسی مطالبات کو قانونی اور آئینی زبان میں پیش کیا۔ یہ لفظی احتیاط اور محتاط اسلوب کے باوجود ایک واضح پیغام دیتی تھی کہ مسلمان اپنی مذہبی و تہذیبی شناخت کے ساتھ ایک جُداگانہ قوم ہیں اور انہیں اس کے مطابق سیاسی انتظام درکار ہے۔ اِس اقدام نے برّ ِعظیم میں مسلم سیاسی سوچ کو نئے معیار، نئے اصول اور ایک مستقل حکمتِ عملی کی سمت دی، جو بعد کے انتخابات، مذاکرات اور تقسیمِ ہند کے فیصلوں میں بنیاد کے طور پر کام آئی۔

آئینی اور سیاسی مباحث کے دوران قرارداد نے مسلم قیادت کو مضبوط موقف، قانونی حوالہ اور فکری رہنمائی فراہم کی۔ محمّد علی جناح کی تقاریر، علّامہ اقبال کے نظریات اور برطانوی حکّام کے ریکارڈ اِس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ لاہور کی قرارداد ایک نظریاتی، عملی اور عوامی حمایت یافتہ فیصلہ تھی۔ 

اس نے مسلمانوں کے مطالبات کو صرف اقلیت یا اکثریت کے دائرے سے نکال کر قومی خود ارادیت کے دائرے میں منتقل کیا اور آئندہ سیاسی مذاکرات کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کیا اور یوں3 جون 1947ء کے تقسیمِ ہند کے منصوبے کے ذریعے 1940ء کی قرارداد کے اصول عملی حقیقت میں بدل گئے۔ 

سات سال قبل پیش کی گئی فکری اور آئینی تجاویز ایک ریاستی حقیقت میں تبدیل ہوئیں۔ لاہور کی قرارداد نہ صرف مسلمانوں کی سیاسی تحریک کی بنیاد تھی بلکہ برّ ِعظیم کی تاریخ میں مسلم قومی خودمختاری کی سب سے مضبوط اور فیصلہ کُن دستاویز بھی تھی۔

سنڈے میگزین سے مزید