• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجی سوسائٹیز کے تحقیقی جرائد کا جائزہ، ایچ ای سی کی نئی کمیٹی تشکیل

کراچی(سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نجی سوسائٹیز کے تحقیقی جرائد کی جانچ اور منظوری کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایچ ای سی کے کوآرڈی نیشن ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی ان نجی سوسائٹیز کے تحقیقی جرائد کا جائزہ لے گی جن کے پاس تین سے زائد جرائد موجود ہیں، جبکہ جرائد کی ایکریڈیٹیشن کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت 31 مئی 2022 کے سابقہ نوٹیفکیشن کو منسوخ کرتے ہوئے کمیٹی کو دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ ہوں گے ایچ ای سی کے آر اینڈ ڈی ڈویژن میں ریسرچ جرنلز کے ڈائریکٹر یا انچارج اس کمیٹی کے سیکریٹری ہوں گے۔ دیگر ارکان میں شفا تعمیر ملت یونیورسٹی اسلام آباد کے بانی وائس چانسلر میجر جنرل (ر) پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم، ممتاز قومی پروفیسر اور نیشنل سینٹر آف فزکس کے سیکریٹری جنرل پاکستان اکیڈمی آف سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ایم اسلم بیگ ، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے اسکول آف لا کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر حافظ اظہر الرحمن، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے پروفیسر اور سابق ڈین پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ مائیکرو بایولوجی کے پروفیسر اور چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق علی، گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شازیہ بشیر اور کامسیٹس یونیورسٹی (واہ کیمپس) کے شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر انجینئر ڈاکٹر محمد عابد شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کے ارکان آر جی ایم ایس پورٹل پر موصول ہونے والی درخواستوں کا آن لائن جائزہ لیں گے اور پالیسی میں طے شدہ معیار کے مطابق سفارشات مرتب کریں گے۔ ہر رکن کی جانب سے کی گئی جانچ کے بعد جرنل کو تسلیم یا مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ کمیٹی کرے گی۔ کمیٹی کی کارروائی کے لیے ارکان کی پچاس فیصد موجودگی کو کورم تصور کیا جائے گا، جبکہ ہر درخواست کے جائزے پر کمیٹی کے ارکان کو تین ہزار روپے اعزازیہ دیا جائے گا۔ اجلاسوں کے لیے ٹی اے اور ڈی اے کے اخراجات ایچ ای سی قواعد کے مطابق ادا کرے گا۔

اہم خبریں سے مزید