راولپنڈی (راحت منیر/ اپنے رپورٹر سے) ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی میں 26 کروڑ 10 لاکھ روپےکے گھپلوں کی انکوائری کو دبا دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب اور وزیر اعلی معائینہ کمیشن کی طرف سے تحقیقات اور کمیٹی تشکیل کے احکامات کے باوجود کئی ماہ ہونے کوہیں کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔اور ذمہ داروں کو بچانے کیلئے معاملے کو طول دیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت پنجاب نے وزیر اعلی پنجاب معائنہ کمیشن کے نوٹس کے بعد ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی میں 26 کروڑ 10 لاکھ روپےکے گھپلوں کی تحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی ایڈیشنل ڈائریکٹرہیلتھ سروسز (سی ڈی اینڈ ای پی سی) کی سربراہی میں تشکیل دی تھی۔ جس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر (ایف اینڈ این)اور ایڈیشنل ڈائریکٹر (اکاؤنٹس) بھی شامل تھے۔ کمیٹی اپنی رپورٹ نہیں دے رہی۔ اب پھر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز پنجاب نے کمیٹی سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹرہیلتھ سروسز (سی ڈی اینڈ ای پی سی) کو مراسلہ بھجوایا ہے جس میں پچھلے جاری تمام مراسلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کمیٹی سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ لیکن کمیٹی رپورٹ دینے کا نام نہیں لے رہی۔ آڈٹ رپورٹ مالی سال 2022-23کے دوران سرکاری خزانے کو پہنچائے گے نقصان کو دبانے کیلئے کمیٹیاں بنا بنا کر مسلسل تاخیری حربے اختیار کئے جا رہے ہیں۔