اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) حکومت نے فرنس آئل کی برآمد کو ایک 18رکنی مانیٹرنگ کمیٹی کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں، جسے وزیر اعظم نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر دستیابی کی نگرانی کے لیے تشکیل دیا تھا۔ یہ اقدام آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور درآمدی گیس کی فراہمی میں متوقع کمی کے باعث، ایندھن کی سیکورٹی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ 9 مارچ کو روانہ کیے گئے ایک خط میں، پٹرولیم ڈویژن نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پانچ مقامی ریفائنریوں کو مطلع کیا ہے کہ فرنس آئل کی برآمدات کے لیے اب مانیٹرنگ کمیٹی سے کلیئرنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ ان ریفائنریوں میں پاک عرب ریفائنری کمپنی (پارکو)، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ، اٹک ریفائنری لمیٹڈ اور سائینرجیکو پاکستان لمیٹڈ شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں، مقامی ریفائنریاں باقاعدگی سے فرنس آئل برآمد کر رہی تھیں کیونکہ حکومت نے بجلی کی پیداوار میں اس کا استعمال تقریباً ختم کر کے اسے ایل این جی پر مبنی بجلی کی پیداوار پر منتقل کر دیا تھا۔