نیو یارک (عظیم ایم میاں)ایران پرحملے: امریکا میں یہودی مرکز پر حملہ، حملہ آور ہلاک، مساجد اور عیدکے اجتماعات کیلئے اضافی سیکورٹی انتظامات، یہودی شہری خوفزدہ، مسلمانوں میں تشویش ۔ امریکی ریاست مشی گن کے شہر ویسٹ بلوم فیلڈ میں ایک یہودی عبادت گاہ پر فائرنگ کرنے کے واقعہ میں پولیس نے فائرنگ کرکے ایک مشتبہ شخص کو ہلاک کردیا ہے۔ مقامی پولیس نے صورت حال پر قابو پانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اس واقعہ کی تفصیلات ابھی تک فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ ایران پر امریکہ، اسرائیل حملوں کے تشویشناک تناظر میں اس واقعہ کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق ایک ٹرک کو یہودی عبادت گاہ سے اپنی گاڑی ٹکرانے کے بعد اس کے مسلح ڈرائیور نے فائرنگ کی اور گاڑی ٹکرانے سے آگ بھی لگ گئی جبکہ اس یہودی مرکز میں تعلیم کے لئے بچوں کی ایک تعداد بھی موجود تھی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے جوابی کارروائی کرکے ایک مشکوک شخص کو ہلاک بھی کردیا ہے جبکہ یہودی مرکز میں موجود طلبہ اور دیگر افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ جگہ پہنچا دیا ہے۔ ریاست کی خاتون گورنر، ایف بی آئی اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے حکام بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ اس واقعہ کو یہودی کے خلاف نفرت (اینٹی سیمٹزم) قرار دے کر دہشت گردی کی واردات کا نام دیا جارہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صورت حال پر قابو پالیا گیا ہے۔ تاہم ابھی یہ پتہ چلانا باقی ہے کہ اس واقعہ میں ہلاک کئے جانے والے شخص کے علاوہ کوئی اور بھی شریک منصوبہ ہے یا نہیں۔ ہلاک شدہ شخص کی شناخت اور تفصیلات کا اعلان حکام بعد میں پریس کانفرنس میں بتائیں گے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران بعض امریکی شہروں میں یہودی عبادت گاہوں کے سامنے احتجاجی مظاہروں اور ردعمل کے واقعات کو بھی یہودی کے خلاف نفرت قرار دیا گیا ہے۔ ریاست مشی گن کے علاقے ڈیر بورن میں عرب ممالک کے شہریوں کی بہت بڑی تعداد آباد اور علاقے کا میئر بھی عرب نژاد منتخب اور رشیدہ طالب نامی فلسطینی خاتون امریکی ایوان نمائندگان کی منتخب رکن ہیں، جبکہ ریاست مشی گن سے ملحقہ امریکی، کینیڈین بارڈر کے اس پار کینیڈا کے صوبہ انٹاریو میں بھی ایران سے جنگ کے ان ایام میں اسرائیل کے خلاف ردعمل کے واقعات اور یہودی مرکز پر فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔