دبئی/تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک )عراق میں امریکی فضائیہ کا ایندھن بھرنے والا طیارہ گرکرتباہ ‘عراق میں ایران کا ڈرون حملہ ‘ فرانسیسی فوجی جان سے گیا‘پاسداران انقلاب کا امریکی طیارہ بردار جہاز یوایس ایس ابراہام لنکن کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بحری بیڑے کو شدید نقصان ‘ غیرفعال ہوکرپیچھے ہٹنے پر مجبور‘عمان میں ڈرون گرنے سے دو بھارتی شہری ہلاک ‘عرب امارات کے ساحل کے قریب آئل رِگ میں آگ بھڑک اٹھی‘ایران نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک زیر آب ڈرون استعمال کیا۔اسرائیل کا ایران میں میزائل لانچرز سمیت 200اہداف نشانہ بنانے کا دعویٰ‘لبنان میں گاؤں پر بمباری ‘8جاں بحق‘ایران کی اسرائیل پر ڈرون اور میزائلوں کی بوچھاڑ ‘حیفہ، قیصریہ، زارعت اور شلومی کے ساتھ ساتھ حولون میں واقع "فوجی و صنعتی کمپلیکس" کو نشانہ بنایا۔حملوں کے نتیجے میں 58افرادزخمی ہوگئے ‘ القدس کے مقدس مقامات پر عبادات عارضی طورپر معطل ‘امارات کے قریب آئل رِگ نشانہ‘دبئی میں ایرانی حملوں سے عمارتیں لرزاٹھیں‘تہران میں یوم قدس کی ریلیوں کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان‘وزیرخارجہ عباس عراقچی‘ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے عوامی سطح پر شرکت کر کے امریکی دعوؤں کی تردید کی کہ قیادت بنکرز میں چھپی ہوئی ہے‘اس موقع پر ریلی کے قریب متعدددھماکے بھی سنے گئے‘ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علی لاریجانی کا کہناتھاکہ یہ حملے خوف اور مایوسی کا نتیجہ ہیں‘ یہ واضح ہے کہ دشمن ناکام ہو چکا ہے۔عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی کا کہنا تھا کہ عوام ان حملوں سے خوفزدہ نہیں ہیں اور ہم کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ادھرعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 99ڈالر 80سینٹ فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئیں ‘ امریکی انتظامیہ نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں پر قابو کے لیے پابندیوں کا شکار روسی تیل کی خریداری پر 30 دن کی جزوی چھوٹ دیدی ہےجس پر یوکرین اور یورپی یونین نے شدیدبرہمی کا اظہار کیاہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اگلے ایک ہفتے کے دوران ایران کو شدید حملوں کا نشانہ بنائے گاتاہم ایرانی حکومت فوری گرنے والی نہیں ‘ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ایران کی تھوڑی بہت مدد کر رہے ہیں‘ضرورت پڑی تو امریکی فوج آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرزکو سکیورٹی فراہم کریگی جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک میرس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کسی کے مفادمیں نہیں بلکہ جرمنی سمیت کئی ممالک کو معاشی طورپر نقصان پہنچ رہاہے ‘لڑائی فوری بند ہونی چاہئےایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔ترکیہ کے صدررجب طیب ایردوان نے جنگ میں شامل نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کا اولین مقصد ترکیہ کو اس پھیلتی ہوئی علاقائی جنگ کا حصہ بننے سے بچانا ہے۔ ہماری اولین ترجیح اپنے ملک کو آگ کے اس گڑھے سے دور رکھنا ہے۔واضح رہے کہ دو ہفتوں سے جاری اس جنگ میں اب تک2ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت ایرانیوں کی ہے تاہم لبنان اور خلیجی ممالک میں بھی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے‘لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے دربدر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کے مغربی اور وسطی حصوں میں بیلسٹک میزائل لانچرز اور دفاعی نظام سمیت 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ لبنانی گاؤں پر اسرائیلی حملے میں آٹھ افراد جان سے چلے گئے ہیں جبکہ مزید نو افراد زخمی ہوئے ہیں۔کویت، عراق اور متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں بھی ایرانی ڈرونز کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔اے ایف پی کےمطابق جمعہ کودبئی میں دھماکوں سے عمارتیں لرز اٹھیں جبکہ مالیاتی مرکز کے وسطی علاقے کے اوپر دھویں کا ایک بڑا بادل چھایا رہا۔ادھر امریکا کی جانب سے روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی کے فیصلے نے یوکرین اور یورپی اتحادیوں کو غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک میرس نے اسے ایک "غلط سگنل" قرار دیا، جبکہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ اس اقدام سے روس کو 10 ارب ڈالر کا فائدہ پہنچ سکتا ہے جو امن کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ ادھر ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی عوام اپنی حکومت کو بدلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گےتاہم یہ فوری طور پرشاید ممکن نہ ہو۔