• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ پولیس کا تاجر کو اغوا اور تاوان کا ایک اور کیس

حیدرآباد (رپورٹ/امجد اسلام) سندھ پولیس میں تاجر کو اغوا اور تاوان کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے‘ حیدرآباد پولیس کے ایک مبینہ افسر کی سرپرستی میں پولیس اہلکاروں اور پرائیویٹ افراد نے ملکر ایک تاجر کو اغوا کرکے ایک کروڑ روپے کا تاوان طلب کیا‘ تاجر نے 20 لاکھ روپے دیکر جان چھڑائی تاہم وزیر داخلہ کی مداخلت پر ایس ایس پی حیدرآباد نے معاملے کی تحقیقات کرکے ملوث پولیس اہلکاروں کو کواٹر گارڈ کردیا جبکہ دو پرائیویٹ افراد کا چرس کیس میں چالان کردیا‘ پولیس گردی کا نشانہ بننے والا تاجرتاوان کی رقم 20لاکھ روپے سے تاحال محروم ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق بااثر پولیس تھانہ دار کو بچانے کے لئے کوشش جاری ہیں۔ ایس ایس پی کے مطابق ملوث پولیس اہلکاروں اور پرائیویٹ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے‘ کس نوعیت کی کارروائی کی جارہی ہے یہ نہیں بتایا۔ ”جنگ“ کے رابطہ کرنے پر ایس ایس پی شاہ زیب چاچڑ کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیق کررہے ہیں‘ ابتدائی تحقیق کے بعدملوث پولیس اہلکاروں اور پرائیویٹ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہے تاہم وصول کی گئی تاوان کی رقم کے بارے میں ایس ایس پی جواب دینے سے قاصر ہیں۔”جنگ“ کی جانب سے ڈی آئی جی طارق دھاریجو سے رابطہ کیا گیا انہوں نے مذکورہ معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس میں تاجروں اور دیگرجرائم پیشہ افراد کو اغوا کرکے کروڑوں روپے وصولی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ملک بھر سے سے مزید