• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں سے خیبرپختونخوا کا مالٹا متاثر ہونے کا خدشہ

پشاور (اے پی پی)بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں نے خیبر پختونخوا میں دیگر باغات کے ساتھ ساتھ مالٹے کےلیے بھی خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کچھ حصوں میں سٹرس کے باغات سب سے زیادہ منافع بخش موسمی فصلوں میں سے ایک بن کر ابھرے ہیں۔ کاشتکاروں کے مطابق ایک اچھی طرح سے سنبھالا ہوا ایکڑ خاطر خواہ آمدنی پیدا کر سکتا ہے۔ کسان ساجد عباسی کا کہنا ہے کہ مناسب آبپاشی اور اچھے انتظام کے ساتھ ایک ایکڑ پر مشتمل باغ سینکڑوں کلوگرام پھل پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا، خاص طور پر پانی کی فراہمی، تو کسان فی ایکڑ 5لاکھ سے 7لاکھ روپے کے درمیان کما سکتے ہیں۔ ساجد عباسی کو خدشہ ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے منسلک دریاؤں کے بہاؤ میں رکاوٹیں اس آبپاشی کے نظام کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں جو ان کے باغ کو زندہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بڑی حد تک دریائے سندھ کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر پانی نایاب ہو گیا تو ہمارے جیسے سٹرس کے باغات متاثر ہوں گے۔ پورے خطے کے کسانوں کو اسی طرح کے خدشات لاحق ہیں۔ ہری پور اور صوابی جیسے اضلاع کے باغات تربیلہ ڈیم کے ذریعے سندھ طاس نظام کی آبپاشی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ پانی کے بہاؤ میں کسی بھی کمی سے موسمی فصلیں بشمول گندم، چاول، گنا اور پھل جیسے خربوزے، اسٹرابیری اور سٹرس براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید