کراچی (رفیق مانگٹ) ایران پر زمینی حملے کیوں ممکن نہیں؟ چینی پروفیسر 7بڑی عسکری وجوہات سامنے لے آئے۔ 70ہزار اسرائیلی فوجی دستیاب، بمقابلہ 6 لاکھ کی ضرورت، ایران پر زمینی حملہ ریاضیاتی طور پر ناممکن، ایران کا وسیع رقبہ اور 9 کروڑ آبادی، غزہ، مغربی کنارے اور لبنان میں مصروف اسرائیلی فوج، 1600 کلومیٹر طویل سپلائی لائن، ایران تک زمینی رسد پہنچانا مشکل، عراق کا کہنا ہے اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دینگے، ایران کے 440 کلو افزودہ یورینیم ذخائر، تہران کی طرف ٹینک بڑھے تو جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ ایران پر اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔ ان حملوں میں ایرانی فضائیہ کو تباہ، 80 فیصد فضائی دفاعی نظام غیر فعال، پاچین اور شاہد میزائل پروڈکشن سہولیات ملبے کا ڈھیر، اور ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ہیں۔ امریکی بحری بیڑے کے 6 طیارہ بردار جہاز اس خطے میں موجود ہیں، اور دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی فضائی طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ ایرانی فضاؤں میں دیکھا گیا۔ چینی تجزیہ کار پروفیسر جیانگ شوکن کے مطابق ان سب کے باوجود سوال یہ ہے کہ زمینی حملہ کیوں نہیں ہو رہا؟ اسرائیلی اور امریکی فوجی حکمت عملی سازوں کے مطابق، اس کی سیدھی سی وجہ یہ ہے کہ فضائی مہم کامیاب ہے اور زمینی دستوں کی ضرورت نہیں۔ لیکن فوجی ماہرین اور تجزیہ کار اس جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہیں اور اس کی اصل وجوہات بتاتے ہیں۔زمینی حملے کی عدم موجودگی کی سات بڑی وجوہات ہیں۔ ایران کا کل رقبہ 16.48 لاکھ مربع کلومیٹر ہے، جو اسرائیل سے 74 گنا زیادہ ہے۔ فوجی ڈاکٹرائن کے مطابق دشمن علاقے پر قبضے اور اسے محفوظ بنانے کے لیے فی 50 شہریوں پر کم از کم ایک فوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔2007 میں عراق میں امریکی جارحیت کے دوران امریکی فوج: 1,66,000 تھی جبکہ عراق کی آبادی 2.5 کروڑ تو اس حساب سے یہ تناسب 150 شہریوں پر ایک فوجی بنتا ہے۔اگر یہی اصول ایران پر لاگو ہو تو ایران کی تقریباً 9 کروڑ آبادی کے لیے کم از کم 6 لاکھ فوجی درکار ہوں گے۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار فعال اہلکار ہیں، لیکن ان میں سے بڑی تعداد پہلے ہی مختلف محاذوں پر تعینات ہے، جن میں سے بیشتر غزہ، مغربی کنارے اور لبنان کی صورتحال پر لگے ہوئے ہیں، جس کے بعد ایران کے لیے صرف 70 ہزار فوجی دستیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ فرق 70,000 اور 600,000 کے درمیان ایک بنیادی ناممکنات ہے۔ دوسرا محاذ لبنان میں حزب اللہ سے تصادم ہے جب سے ایران پر حملے شروع ہوئے، لبنان کی سرحد پر صورتحال بھی کشیدہ ہوگئی۔