تہران/دبئی /واشنگٹن(اے ایف پی /نیوز ڈیسک )اسرائیلی فوج کا تہران، شیراز اور تبریز کو فضائی حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ ‘جنوبی لبنان میں محدودزمینی کارروائی ‘حزب اللہ کے شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے جاری ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں ‘دبئی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے سے ایندھن کے ٹینک میں آگ ‘سفری نظام درہم برہم ‘ابوظہبی میں میزائل حملے میں اپنی گاڑی میں موجود ایک شہری ہلاک ‘فجیرہ میں تیل کی تنصیبات والے علاقے میں بھی ڈرون حملے سے آگ لگ گئی‘امارات کی سرکاری توانائی کمپنی ادنوک نے فجیرہ میں اپنی تنصیبات پر مسلسل حملوں کے بعد اسٹوریج ٹینکوں میں تیل کی لوڈنگ کا عمل روک دیا ہے‘ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے رات میں درجنوں ڈرونز مار گرائے ہیں جبکہ عراق اور کویت نے بھی نئے حملوں کی اطلاع دی ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے پورے خطے میں امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے وہاں کام کرنے والے ملازمین سے جگہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔برطانیہ ‘جرمنی ‘جاپان ‘اٹلی ‘پولینڈ، اسپین، یونان‘آسٹریلیا‘ سویڈن ‘ڈنمارک ‘ہالینڈسمیت نیٹو اور دیگر مغربی اتحادیوں نے آبنائے ہرمز کھولنے میں ساتھ دینے کا صدرٹرمپ کا مطالبہ مستردکرتے ہوئے آبی گزرگاہ میں بحری جہاز نہ بھیجنے کا اعلان کردیا اور کہاہےکہ یہ جنگ ہماری نہیں ‘ہم لڑائی نہیں چاہتے تھے اورپہلے دن سے کشیدگی میں کمی لانے کا مطالبہ کیاہے‘ امریکی صدر نے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ہماراصرف ایک فیصد تیل ہرمزسے گزرتاہے ‘ انہوں نے اتحادیوں سے پھراپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور اس مشن میں امریکا کا ساتھ دیں ‘ جس طرح امریکا نے یوکرین کی مدد کی ہےہم توقع کرتے ہیں کہ یورپ بھی آبنائے ہرمز کے معاملے پر مدد کرے گا‘ اگر کوئی ردعمل نہ آیا یا منفی ردعمل آیا، تو میرے خیال میں یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ہوگا۔صدرٹرمپ کاکہناتھاکہ امریکا ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاہم تہران فی الحال جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر راضی نہیں ہےالبتہ وہ ڈیل کےکافی قریب پہنچ چکے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں صحافیوں کو بتایاکہ اب تک وہ سمجھ چکے ہوں گے کہ ان کا واسطہ کس قوم سے ہے، وہ قوم جو اپنا دفاع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی اور جنگ کو وہاں تک لے جانے کے لیے تیار ہے جہاں تک ضرورت ہوگی۔عراقچی کا مزیدکہناتھاکہ کچھ پڑوسی ممالک جو امریکی افواج کی میزبانی کر رہے ہیں اور ایران پر حملوں کی اجازت دے رہے ہیں وہ امریکا کو ایرانیوں کے قتل پراکسارہے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے وسیع حملوں کی نئی لہر کا اعلان کرتے ہوئے تہران، شیراز اور تبریز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیاہے ‘امارات میں ڈرون حملوں کے باعث فجیرہ میں تیل کے صنعتی علاقے اور ام القوین کی ایک عمارت میں آگ بھڑک اٹھی‘ابوظبی میں میزائل حملےکے نتیجے میں ایک شہری ہلاک ہوگیا ‘ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس نے رات میں درجنوں ڈرونز مار گرائے ہیں جبکہ عراق اور کویت نے بھی نئے حملوں کی اطلاع دی ہے۔ادھر نیٹواور دیگر مغربی اتحادیوں نے پیر کے روز صدرٹرمپ کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد مانگی گئی تھی۔