نیویارک (عظیم ایم میاں) امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے عالمی اور قومی اثرات تو سامنے آنا باقی ہیں تاہم 17؍ روز سے جاری جنگ کے دوران ہی امریکی صحافت کی مثالی آزادی پر منفی اثرات کی شکایات سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔ صدر ٹرمپ تو اپنی صدارت کی پہلی چار سالہ میعاد سے لیکر اب تک ان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے ممتاز اور موثر امریکی میڈیا کو مختلف الزامات اور گھٹیا قرار دیکر اعلانیہ توہین کرتے آرہے ہیں لیکن اب وہ ان صحافیوں پر بھی جملے کستے اور غصہ کا اظہار کرنے لگے ہیں جنہوں نے ماضی میں صدر ٹرمپ کی کھلی حمایت کی تھی۔ اس کی ایک منفرد مثال کنزرویٹو اور ٹرمپ کے حامی فاکس ٹی وی کے سا بق ممتاز اینکر ٹکرکارلسن کی مثال ہے جوماضی میں صدر ٹرمپ کے حامی رہے ہیں اور کنزرویٹو نظریات کے حامی ہونے کے باوجود اس جنگ کو امریکا کی جنگ ماننے سے انکاری اور اس جنگ کوایک دوسرے ملک یعنی اسرائیل کی جنگ قرار دے کر صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کرنے کے علاوہ ٹرمپ حکومت کے مختلف پہلو اور اقدامات کو بھی سامنے لارہے ہیں جس کے باعث صدر ٹرمپ ٹکرکارلسن کے طویل وی لاگ اور تنقیدی تبصروں کی امریکی عوام میں مقبولیت سے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔