لندن (جنگ نیوز)ایشز سیریز میں ہزیمت آمیز شکست کے باوجود انگلش کرکٹ نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’ری سیٹ‘‘ بٹن دبانے سے گریز اور مستقل مزاجی کو اپنی نئی حکمتِ عملی کا محور بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے ماہرین ایک جرات مندانہ مگر خطرناک جوا قرار دے رہے ہیں۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے حالیہ جائزہ اجلاس میں یہ طے پایا کہ ہیڈ کوچ برینڈن میک کولم، کپتان بین اسٹوکس اور ٹیم مینجمنٹ پر بدستور اعتماد برقرار رکھا جائے گا، حالانکہ آسٹریلیا کے ہاتھوں 4-1 کی واضح شکست نے ٹیم کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا تھا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق بورڈ کا خیال ہے کہ بار بار تبدیلیوں کے بجائے تسلسل ہی بہتری کی ضمانت بن سکتا ہے۔ دوسری جانب جارحانہ ’’بیزبال‘‘ حکمتِ عملی، جس نے ابتدائی کامیابیاں سمیٹیں، اب تنقید کی زد میں ہے۔ تاہم حکام نے اسے مکمل ترک کرنے کے بجائے حالات کے مطابق ڈھالنے کا عندیہ دیا ہے، تاکہ جارحیت اور احتیاط کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔ ایشز کے دوران ٹیم ڈسپلن اور ڈریسنگ روم کلچر پر بھی سوالات اٹھے، جن کے بعد اندرونی سطح پر سختی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق انگلینڈ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں تسلسل اسے نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے یا مزید ناکامیوں کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔ اب نظریں آنے والی سیریز پر مرکوز ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ انگلینڈ کا یہ صبر آزما فیصلہ دانشمندی ثابت ہوتا ہے یا ایک اور ناکام تجربہ۔