کراچی (محمد منصف) امتناع منشیات کیس میں سرکاری گواہان کے متضاد بیانات سے ایک کلو اعلی کوالٹی چرس کی کیس پراپرٹی مشکوک ہوگئی ، عدالت عالیہ نے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے مقدمے سے بری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس سید فیض الحسن شاہ نے ایک کلو چرس رکھنے کے الزام میں ملزم محمد ارشد کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملزم محمد ارشد اگر کسی اور مقدمے میں نامزد نہیں ہے تو فوری رہا کر دیا جائے قبل ازیں درخواست گزار محمد رشد پر الزام تھا کہ 21 اپریل تھانہ گلبہار پولیس نے لیاری ایکسپریس وے کے نزدیک واقع حاجی مرید گوٹھ سے گرفتار کر کے س کے قبضے سے ایک کلو اعلی کوالٹی کی چرس برآمد کی تھی اور امتناع منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا ، انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو 29 اکتوبر 2025 میں 9 سال قید بامشقت و 80 ہزر روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ملزم نے اپنے وکیل کے توسط سے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جہاں عدالت عالیہ نے طرفین دلائل سننے کے بعد ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی اور ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر ملزم کسی اور مقدمے میں نامزد نہیں ہےفوری رہا کیا جائے۔ عدالت عالیہ نے کیس پراپرٹی سے متعلق گواہان کے بیانات ریکارڈ کئے تاہم پولیس آفیشلز کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا جس کی وجہ سے استغاثہ انتہائی کمزور ہوا اور ملزم پر عائد الزام مشکوک ہوگیا اس طرح عدالت عالیہ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور ملزم کو مقدمے سے بری کر دیا۔