• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2022 کے سیلاب میں 19,808 اسکول متاثر ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی( اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سنہ 2022 کے سیلاب میں صوبے کے 19,808 اسکول متاثر ہوئے، حیدرآباد ڈویژن میں سب سے زیادہ 1,254 اسکول متاثر ہوئے، اس کے بعد لاڑکانو ڈویژن میں 1,218، سکھر ڈویژن میں 1,070، شہید بینظیرآباد ڈویژن میں 894، میرپورخاص ڈویژن میں 724 اور کراچی ڈویژن میں 305 اسکول متاثر ہوئے،لیکن حکومت صوبائی، وفاقی اور عطیہ دہندگان کے پروگراموں کے تحت 5,314 اسکولوں کی تعمیر نو اور مرمت کر رہی ہے، جس سے 1.4 ملین سے زیادہ طلبا کے لیے تعلیمی سہولیات بحال ہو رہی ہیں۔ وزیراعلی ہاس میں منعقدہ اجلاس میں اسکولوں کی تعمیر نو اور بحالی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار شاہ، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، اسکول ایجوکیشن کے سیکریٹری زاہد عباسی، سیکریٹری ٹو سی ایم آصف جمیل شیخ اور دیگر اعلی حکام شریک ہوئے۔وزیر تعلیم نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ سیلاب کے دوران صوبے کے 19,808 اسکول متاثر ہوئے۔ ان میں سے 5,465 اسکولوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں 2,268 مکمل طور پر تباہ اور 3,197 جزوی طور پر متاثرہ اسکول شامل ہیں۔ تاہم، 14,343 اسکول ابھی تک بحالی کے منتظر ہیں۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ جاری اقدامات صوبائی، وفاقی اور عطیہ دہندگان کے پروگراموں کے تحت نافذ کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 5,369 اسکول بڑے تعمیر نو منصوبوں میں شامل کیے گئے ہیں جن کی لاگت 167 ارب روپے ہے، جس میں سے 63.95 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ 2,114 اسکول مختلف مالیاتی انتظامات کے تحت مکمل ہو چکے ہیں۔ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت 2,405 اسکولوں پر کام شروع ہو چکا ہے، جن میں سے 617 مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی منصوبوں کی تکمیل جون 2027 تک متوقع ہے۔ مینٹیننس اور ریپیئر پروگرام 23-2022 اور 25-2024 کے تحت 938 اسکولوں کی بحالی کامیابی سے کی گئی ہے اور یہ تمام مکمل ہو چکے ہیں۔
شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید