ٹنڈوالہ یار(نامہ نگار) قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کارروائی، بینظیر انکم سپورٹ میں اربوں کے فراڈ کا جال بے نقاب، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے افسران اور موبائل کمپنیوں کے فرنچائزمالکان کا گٹھ جوڑبے نقاب،6افراد پر اے سیکشن تھانے پر مقدمہ درج ،تین افراد گرفتار تین ملزمان فرارمذید تحقیقات جاری تفصیلات کے مطابق ٹنڈوالہ یار میں ریاستی ادارے کی ایک خفیہ کارروائی نے سندھ بھر میں ہلچل مچا دی، جہاں ایک انتہائی منظم اور خطرناک فراڈ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا گیاچھاپے کے دوران درجنوں موبائل فونز، سیکڑوں مشکوک وغیرہ رجسٹرسمیں اور لیپ ٹاپس برآمد کر کے پورے گینگ کو گرفتار کر لیا گیا ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان غریب اور سادہ لوح خواتین، خصوصاً بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والی خواتین کو نشانہ بنا رہے تھے۔ گینگ نہ صرف ان کی امدادی رقم میں غیر قانونی کٹوتیاں کر رہا تھا بلکہ ان کے نام پر سمیں حاصل کر کے انہیں سنگین جرائم میں استعمال کیا جا رہا تھازرائع کے مطابق ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والے ڈیجیٹل آلات میں جدید اور خفیہ سافٹ ویئر نصب تھاجس کے ذریعے موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز تبدیل کیے جاتے تھے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچا جا سکے۔ یہی سمیں آن لائن فراڈ، مالیاتی دھوکہ دہی اور دیگر خطرناک سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی تھیں، جن کے ذریعے کروڑوں روپے بٹورے گئےسب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے افسران، فرنچائز مالکان اور پولیس افسران کی پشت پناہی حاصل تھی جو اس غیر قانونی نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کرتے رہے۔ حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک نہایت منظم انداز میں کام کر رہا تھا اور اس کے تانے بانے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک تک پھیلے ہونے کا خدشہ ہے۔عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ، بائیومیٹرک تصدیق اور ذاتی معلومات کسی غیر متعلقہ فرد کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں۔ پولیس نے تین ملزماں کو گرفتار کر کے ان کا تین روزہ ریمانڈ بھی لے کر مزید تفتیش شروع کردی ہے۔