کراچی (جنگ نیوز) سندھ ہائیکورٹ آئینی بنچ نے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کی ٹائم اسکیل پروموشن سے متعلق جاوید اختر کھچی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا ہے کہ پراسیکیوٹرز بھی ٹائم اسکیل پروموشن کے اہل ہیں اور درخواست خارج کر دی۔ جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذوالفقار سانگی پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ صرف عہدے یا تنخواہ کی بنیاد پر برابری کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دونوں سروسز کے قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے مختلف ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ اٹارنیز کو دی جانے والی ٹائم اسکیل پروموشن اس وجہ سے دی جاتی ہے کہ ان کے سروس اسٹرکچر میں ترقی کے مواقع محدود ہوتے ہیں، جبکہ پراسیکیوشن سروس میں باقاعدہ ترقی کے چینلز موجود ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر پراسیکیوشن افسران کو اس نوعیت کی پروموشن دینی ہے تو اس کے لیے متعلقہ قوانین اور سروس رولز میں گنجائش موجود ہونی چاہیے۔ عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پراسیکیوشن سروس کے سروس اسٹرکچر اور پروموشن کے معاملات کو جلد حتمی شکل دی جائے، اور درخواست گزار کے کیس کو بھی میرٹ پر دیکھا جائے، جس میں پروموشن، پنشن سمیت تمام متعلقہ مراعات شامل ہوں۔ سندھ ہائیکورٹ کے سینئر وکیل مولوی اقبال حیدر، سینئر وکیل محمد یوسف علوی، سینئر وکیل سرفراز میتلو ، سینئر وکیل فواد علی کھچی کے تواسط سے عدالت میں درخواست گزار جاوید اختر کھچی نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے 17 سال سے زائد سروس انجام دی ہے اور انہیں BPS-20میں ٹائم اسکیل پروموشن کے ساتھ تمام مراعات دی جائیں، جیسا کہ پہلے دیگر افسران کو دی جا چکی ہیں۔