کراچی (افضل ندیم ڈوگر)روایتی جنگ کے بعد ’’سائبر وار فیئر‘‘ 25 دن میں جی پی ایس ڈیٹا پر ہزاروں حملے، جیمنگ، اسوفنگ سے جی پی ایس سگنلز کو کمزور کرکے جنگی مقاصد کا حصول عام ہوگیا، طاقتور برقی شور سے سگنلز کمزور کئے جاتے ہیں، پروازیں بحری جہاز راستے بھٹک رہے ہیں، سائبر وار فیئر سے ہی روایتی جنگ میں یقینی کامیابیاں شکست میں بدلتی رہی ہیں، ماہرین۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کی حالیہ جنگ میں ایسا بہت کچھ دیکھا جا چکا ہے اور اب ایران کے ارد گرد کے خطے کی فضا میں کچھ غیرمعمولی اور عجیب ہو رہا ہے۔ مشرق وسطی میں فضائی اور بحری راستے استعمال کرنے والے اس سلسلے میں پریشان ہے۔ یومیہ درجنوں پروازیں اور بحری جہاز راستے بھٹک رہے ہیں۔ ایسے پے در پے واقعات کے بعد ایوی ایشن ماہرین کے درمیان ایسی معمول بن گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا گلوبل پوزیشنگ سسٹم یعنی جی پی ایس ڈیٹا پر حملوں کی وجہ سے ہورہا ہے، جسے جیمنگ اور اسوفنگ کہا جاتا ہے۔ جیمنگ کا مقصد جی پی ایس سگنلز کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ پاورفل الیکٹرو میگنیٹک نوائز یعنی طاقتور برقی شور کے ذریعے سگنلز کمزور کئے جاتے ہیں۔ اسپوزنگ سے نیوی گیشن سسٹمز کو دھوکے سے غلط لوکیشن ظاہر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔