لاہور(آصف محمود بٹ )پنجاب انفارمیشن کمیشن کا غیر معمولی فیصلہ، آر ٹی آئی قانون کا غلط استعمال بدنیتی قرار۔ کمیشن کے مطابق بادی النظر میں درخواستیں معلومات کے حصول کے بجائے سرکاری اداروں کو ہراساں کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔ محکمہ انہار پنجاب کے خلاف 35 یکساں اور مبہم درخواستیں مسترد، سپریم کورٹ آف انڈیا اور دہلی ہائیکورٹ کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا۔پنجاب انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے ایک غیر معمولی اور تفصیلی فیصلے میں معلومات تک رسائی کے قانون پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013کے مبینہ غلط استعمال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ انہار کے مختلف دفاتر کے خلاف دائر 35 شکایات کو مسترد کر دیا ہے، اور قرار دیا ہے کہ یہ درخواستیں مبہم، یکساں اور قانون کے تقاضوں پر پورا نہ اترنے کے باعث قانون کا ناجائز استعمال ہیں۔"جنگ" کو حاصل دستاویزات کے مطابق 24 مارچ 2026 کو چیف انفارمیشن کمشنر محمد مالک بھلہ اور انفارمیشن کمشنر بشریٰ ثاقب کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں درخواست گزار عتیق الرحمن کے طرزِ عمل، ماضی کی کارروائیوں اور قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ درخواستیں بادی النظر میں معلومات کے حصول کے بجائے سرکاری اداروں کو ہراساں کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔