• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت میں مودی کی فارن پالیسی پر انگلیاں اٹھنے لگیں

لاہور(خالدمحمودخالد) خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھارتی صحافیوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فارن پالیسی پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پربھارتی صحافیوں کی مودی پر کڑی تنقید کی ہے۔ اور کہا کہ پا کستان کو یہ کردار کیوں ملا ہوگا؟ آخر اچانک پاکستان اتنا بڑا کھلاڑی کیسے بن گیا؟   ممتاز صحافی رویش کمار نے  اپنے وی لاگ میں بھارتی وزیراعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی ٹرمپ کے ساتھ جادو کی جپھیوں کے باوجود پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے اور امریکہ نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بات بھی کی۔ فنانشل ٹائمز میں خبر شائع ہوئی ہے کہ جنرل منیر نے ٹرمپ کو فون کیا اور بیچ بچاؤ کی پیشکش کی ہے۔ تو اس موڑ پر اس جنگ میں پاکستان کا کردار اچانک بڑا دکھائی دینے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اب تک کے حالات میں بھارت کا کیا کردار رہا ہے؟ جنگ رکوانے میں پاکستان کا کردار ہو اور بھارت کا نہ ہو۔ بھارت کے سفارتی ماہرین کو یہ سب کیسا لگ رہا ہوگا؟ پوری دنیا میں یہ بحث ہے کہ مغربی ایشیا کے سب سے بڑے بحران میں اچانک پاکستان کا کردار اتنا اہم کیسے ہو گیا؟ کیا پاکستان بھی امن کا پجاری بن گیا ہے؟ اب تک کی سفارتی کوششوں میں بھارت کہاں ہے اور کیوں نہیں ہے؟ یہ سوال پوچھا جانا چاہیے۔ فنانشل ٹائمز نے بھی پاکستان کے حوالے سے ایک تجزیہ کیا ہے۔ لکھا ہے کہ ایران بحران کے معاملے میں پاکستان بطور ثالث ابھر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اس کا یہ مضمون کافی پڑھا جا رہا ہے اور اسے پانچ صحافیوں نے مل کر لکھا ہے۔ رویش کمار نے سوال کیا کہ آخر پاکستان کو یہ کردار کیوں ملا ہوگا؟  آخر اچانک پاکستان اتنا بڑا کھلاڑی کیسے بن گیا؟ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ رویش کمار نے پوچھا کہ آخر کس بنیاد پر بھارت میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ بھارت کے پاس امن کا منتر ہے؟ امن کا منتر ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ جس ملک نے حملہ کیا اس کا نام لے کر مذمت کی جائے۔

اہم خبریں سے مزید