• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹریننگ کے نام پر نجی ہسپتالوں کی جانب سے ٹرینی ڈاکٹرز کے استحصال میں اضافہ

ملتان (سٹاف رپورٹر) پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ٹریننگ کے نام پر نجی ہسپتالوں کی جانب سے ٹرینی ڈاکٹرز کے استحصال میں اضافہ،تربیت کے بہانے ڈاکٹروں سے زبردستی بیان حلفی لکھوائے جا رہے ہیں جس میں انہیں کم تنخواہ یا بغیر معاوضے کے طویل عرصے تک کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے،اس عمل میں کئی نجی ادارے پیش پیش ہیں جب کہ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان اس پورے معاملے سے آگاہ ہونے کے باوجود کوئی تادیبی کارروائی نہیں کر رہا، ذرائع کے مطابقنجی ہسپتالوں میں FCPS پارٹ ٹو ٹریننگ کے لیے داخلے لینے والے ڈاکٹرز کو داخلے کے وقت ایک طویل اور یک طرفہ ایفی ڈیوٹ پر دستخط کرنے پڑتے ہیں،اس دستاویز میں ڈاکٹرز کو نہ صرف کم سے کم تنخواہ پر راضی ہونے کا لکھا جاتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں تو سال بھر یا اس سے زیادہ عرصے تک بغیر کسی سٹیپنڈ کے 24 گھنٹے آن کال ڈیوٹی دینے کا وعدہ بھی لیا جاتا ہے،ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر انہوں نے ایفی ڈیوٹ پر دستخط نہ کیے تو ان کی ٹریننگ کی مدت مکمل نہیں ہوتی اور CPSP کی جانب سے FCPS ڈگری بھی نہیں ملتی، ایک متاثرہ ٹرینی ڈاکٹر نے اپنا نام نہبتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ ہمارے ساتھ تربیت کے نام پر غلامی کا سلوک کیا جا رہا ہے، دن رات مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں لیکن تنخواہ کا نام و نشان نہیں،اگر شکایت کی جائے تو ایفی ڈیوٹ کی دھمکی دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ CPSP کونجی ہسپتالوں کی جانب سے ٹریننگ پروگرامز کی منظوری دیتے وقت ان تمام شرائط کا علم ہے، مگر ادارے نے اب تک ان ہسپتالوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے یا ان کے خلاف کوئی نوٹس جاری کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، دوسری جانب ڈاکٹروں اور میڈیکل کمیونٹی کے نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کی جانب سےCPSP کو پابند کیا جائے کہ وہ ان نجی ہسپتالوں کی رجسٹریشن منسوخ کرے جن میں ڈاکٹرز کا معاشی استحصال ہو رہا ہےیا پھر CPSP اپنے سالانہ اربوں روپے کے فنڈز میں سے ان ٹریننگ ڈاکٹرز کے سٹیپنڈ خود ادا کرے۔
ملتان سے مزید