• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منصوبہ گریٹر اسرائیل ہے، ایران جنگ پر مشاہد حسین اور اسرائیلی جنرل میں سخت بحث

کراچی ( جنگ نیوز) ایک مذاکرے میں معروف پاکستانی صحافی اور سیاستدان مشاہد حسین سید اور اسرائیلی جنرل اور قومی سلامتی کے مشیر کے مابین اس وقت سخت بحث ہوئی جب مشاہد حسین نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر یہ کہہ دیا کہ کارروائی کے پیچھے اصل منصوبہ گریٹر اسرائیل ہے۔مذاکرےمیں۔1945 ڈاٹ کام کے سینئر سکیورٹی ایڈیٹر اور کتاب ’’شیڈو وار: ایران کی برتری کی جدوجہد‘‘ کے مصنف بھی شامل تھے۔ مشاہد حسین نے کہا کہ ایران کو برتری حاصل ہے،یہ نیتن یاہوکی جنگ ہے جس میں وہ ٹرمپ کو گھسیٹ لایا ہے،وہ فولادی ضمانتیں چاہتا ہے،حقائق وہ ہیں جو ٹرمپ اور نیتن یا ہونے سوچے بھی نہیں ہونگے،چوتھے ہفتے میں بھی ایران پوری قوت سے ڈٹا ہوا ہے،ٹرمپ امن کی بھیک مانگ رہا ہے،شاید ایپسٹین فائلز کی وجہ سے  ٹرمپ نیتن یا ہو کے پاس پھنس چکے،سابق اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیریاکوف امیڈرو نے کہا کہ  حالات نارمل ہیں، توقع سے کم انٹرسیپٹراستعمال کیے، ہدف میزائل پروگرام اور نیوکلیئر پروگرام تباہ کرنا ہے،امریکی مصنف  اور  سینئر نیشنل سکیورٹی ایڈیٹربرانڈن وائیخرٹ نے بتایا کہ اسرائیل اپنے ایرو انٹرسیپٹرختم ہونے سے محض چند دن کے فاصلے پر ہے، ایرانی دھیرے دھیرے تھکارہے ہیں،العربیہ ٹی وی کے پروگرام کی خاتون میزبان نے اپنے طویل انٹرو کے بعد صورتحال کا تازہ ترین پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ۔ ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے ٹرمپ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے، اور ایرانی حکام نے آج ہی ایران کے پریس ٹی وی کو بتایا ہے کہ ایران کے پاس بھی پانچ شرائط ہیں جن کے تحت وہ جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہوگا۔ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کی بین الاقوامی تسلیم کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں۔العربیہ ٹی وی انگش پر ہونے والے مذاکرے میں یاکوف امیڈرو نے کہا کہ اسرائیلی نقطہ نظر سے آبنائے ہرمز میں خودمختاری کا مسئلہ بنیادی موضوع نہیں ہے۔ اگر امریکی اس پر رضامند ہو جاتے ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ اسرائیل اس پر اعلانیہ کوئی اعتراض کرے گا۔ یہ… یہ بہت بے وقوفانہ بات ہے، لیکن خیر، یہی چیز ایرانی چاہ رہے ہیں۔ اور اگر امریکہ مان جاتا ہے، تو اسرائیل اس مذاکرات کا حصہ نہیں۔۔اسرائیل کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم نکلوایا جائے، میزائل کی تیاری رکوائی جائے، اور ایران اس بات کی ضمانت دے کہ وہ دوبارہ کبھی نہ میزائل پروگرام میں واپس آئے گا نہ جوہری منصوبے میں، اور نہ ہی اسرائیل کے گرد اپنے پراکسی گروہوں کو فنڈ کرے گا جیسا کہ پچھلے 45 برسوں سے کرتا آیا ہے:سینیٹر مشاہد حسینے اس موقع پر کہا کہ: اس وقت دونوں فریق زیادہ سے زیادہ مطالبات (maximalist demands) پیش کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو 15 نکات ٹرمپ نے بھیجے ہیں وہ بھی ایسی ہی چیزیں ہیں جنہیں وہ خود جانتے ہیں کہ ایران قبول نہیں کرے گا، کیونکہ وہ ایسی شرائط مانگ رہے ہیں جن کا ابتدائی ایجنڈے میں ذکر تک نہیں تھا۔شروع میں تو سارا معاملہ ایران کے جوہری پروگرام کے گرد تھا، مگر جب ایران نے کہا کہ وہ بم نہیں بنا رہا تو ہر روز نیا مطالبہ لے آئے۔۔لہٰذا ایران نے بھی پھر اپنی طرف سے سخت شرائط رکھ دیں۔میری رائے میں حالات تب ہی متوازن ہوں گے جب سنجیدہ مذاکرات شروع ہوں گے۔ایران سمجھتا ہے کہ فی الحال اسے برتری حاصل ہے، کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کا گلا دبا کر بیٹھا ہے، اور یہ بھی کہ امریکہ و اسرائیل پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا— کیونکہ یہ بنیادی طور پر نتن یاہو کی جنگ ہے جس میں ٹرمپ کو گھسیٹا گیا ہے۔اور ایران سمجھتا ہے کہ اسے دو مرتبہ دھوکہ دیا گیا — جون 2025 میں اور اب 28 فروری کو۔اس لیے وہ ایسے فولادی ضمانتیں چاہتے ہیں جن سے پتا چلے کہ یہ صرف جنگ بندی نہیں، بلکہ دیرپا اور جامع امن معاہدہ ہوگا۔اس موقع پر برانڈن وائیخرٹ: نے شریک گفتگو ہوتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے میرا خیال ہے کہ نہ صرف وہ ایسا سمجھتے ہیں بلکہ یہ درست بھی ہے۔انہوں نے ایک شاندار حکمت عملی دکھائی ہے — امریکہ، اسرائیل اور عرب ریاستوں کو اتنا تھکا دینا کہ ان کے ذخائر ختم ہو جائیں اور امریکہ داخلی سیاسی و معاشی دباؤ کے تحت گھٹنے ٹیک دے۔ میں خود امریکہ میں رہتا ہوں — حالات واقعی خراب ہو رہے ہیں۔برطانوی ادارہ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ، جس کے صدر نے تین ہفتے پہلے مجھے ’’احمق‘‘ کہا تھا، اب وہی وہ باتیں تصدیق کر رہے ہیں جو میں نے کہی تھیں:اسرائیل محض چند دنوں کے فاصلے پر ہے اپنے ایرو انٹرسیپٹرز ختم کر دینے سے۔اور امریکہ نے بھی اپنے تھاد ذخائر کا 40 فیصد استعمال کر لیا ہے، اور صرف تین ہفتے کا اسٹاک باقی ہے۔اگر جنگ کی رفتار بڑھی تو یہ مزید جلد ختم ہو جائیں گے۔ایرانی حکمت عملی — ’دھیرے دھیرے تھکا دینا‘ — شروع سے یہی تھی، اور ہم نے ان کے میزائل ذخائر کو قلیل اور کم سمجھا تھا، جس کی قیمت اب ادا کر رہے ہیں۔اور میرا خیال ہے کہ نہ ٹرمپ، نہ ایران، نہ اسرائیل — کوئی بھی سنجیدہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں۔ ہےلہٰذا ہم مزید خطرناک سطح پر جا رہے ہیں — اور شاید امریکہ کو آبنائے ہرمز میں ’’گیلی پولی‘‘ جیسا منظر دوبارہ دیکھنا پڑے۔یہ اچھا انجام نہیں ہوگا۔یاکوف امیڈرو: کا موقف تھا کہ یہ سراسر جھوٹی خبر ہے۔ میرے علم کے مطابق، اسرائیل مکمل طور پر اسی منصوبے پر چل رہا ہے جو پہلے سے بنایا گیا تھا۔ ہم نے توقع سے بھی کم انٹرسیپٹر استعمال کیے ہیں، کیونکہ ایرانی اتنے میزائل داغ ہی نہیں سکے جتنے ہم نے اندازہ لگائے تھے۔ہم نے کم استعمال کیے ہیں، جبکہ منصوبے میں زیادہ ضرورت تصور کی گئی تھی۔ برانڈن: رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کہہ رہا ہے۔ یاکوف: اچھا ادارہ ہے — لیکن اسرائیل کے بارے میں ان کے پاس اچھی معلومات نہیں ہوتیں۔میں وہ آدمی ہوں جو جنگی منصوبے کے اعداد و شمار جانتا ہے۔ہم چھ ہفتے تک مزید جنگ جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ایران 100–200 میزائل روزانہ داغنے کا منصوبہ رکھتا تھا، مگر وہ صرف 15 کے قریب داغ پائے ہیں۔سینیٹر مشاہد حسین: نے اس موقع پر کہا کہ رائے سب رکھ سکتے ہیں، مگر حقائق اپنی جگہ ہوتے ہیں۔کبھی ٹرمپ یا نتن یاہو نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایران چوتھے ہفتے میں بھی پوری قوت سے ڈٹا رہے گا، یا اسرائیل کے انتہائی حساس سائیٹس کے قریب تک ضرب لگا سکے گا، یا آبنائے ہرمز کو اتنی کامیابی سے بند رکھے گا۔’’منصوبہ A‘‘ یہ تھا کہ 24 گھنٹوں میں ایران کی قیادت کو ختم کر کے پورا نظام گرا دیا جائے۔ یہ سب ناکام ہوا۔اسی لیے اب وہ پریشان ہیں، اور ٹرمپ الجھن میں ہیں، مطالبات بدل رہے ہیں۔نتن یاہو صرف دکھاوا کر رہے ہیں، حقیقت میں وہ پھنس چکے ہیں۔ ایران مضبوطی سے کھڑا ہے — اس لیے ٹرمپ امن کی بھیک مانگ رہے ہیں۔یاکوف: کا کہنا تھا کہ ہر روز اور ہر رات 600 امریکی اور اسرائیلی طیارے ایران پر بمباری کر رہے ہیں۔اگر یہی برتری ہے تو ایران واقعی ’’کامیاب‘‘ ہے۔برانڈن: نے کہا کہویتنام میں ہم نے 5.39 ملین س sorties کیے تھے — مگر جنگ پھر بھی ہار گئے تھے۔ فضائی قوت کوئی جادو نہیں۔یاکوف نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ویتنام میں 10 فیصد بم اپنے ہدف پر لگے تھے۔آج 90 فیصد ہدف پر لگتے ہیں۔یہ زمین آسمان کا فرق ہے۔لہٰذا ویتنام سے موازنہ درست نہیں۔ برانڈن وائخَرٹ: نے اس موقع پر سوال کیا کہ پھر ہم نے کیوں نہیں دیکھا کہ ایرانیوں کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر مجبور کیا گیا ہو۔ کیوں امریکہ میں معاشی حالات اتنی تیزی سے گرتے جا رہے ہیں۔ کیوں امریکہ میں سیاسی صورتحال اتنی تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ میں اسے کسی طرح بھی کامیابی نہیں سمجھتا کیونکہ جنگ دراصل سیاست کا تسلسل ہوتی ہے دوسرے ذرائع کے ذریعے۔ میں واقعی نہیں سمجھتا کہ کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے ۔یاکوف امیڈرور کا کہنا تھا کہ: یقیناً آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ وہاں کیا ہو رہا امریکا کے بارے میں اپنا فیصلہ ٹرمپ کریں گے۔ میں اسرائیل کے بارے میں بات کر سکتا ہوں۔ اسرائیل میں معیشت جاری ہے۔ آہ… اسرائیل میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل کا شیئر مارکیٹ دنیا کی پانچ بہترین شیئر مارکیٹوں میں سے ایک ہے ۔ تمام اسرائیلی حکومت کے پیچھے متحد ہیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اپوزیشن کے سربراہ یائر لیپڈ نے دی اکانومسٹ میں اس بارے میں لکھا کہ تمام اسرائیلی حکومت کے پیچھے ہیں۔ سو میں امریکہ کا تجزیہ نہیں کر سکتا۔ میں بہت عاجزی سے کہتا ہوں کہ مجھے اسرائیل کے تمام حقائق بھی نہیں معلوم۔ ہمیں سیاسی نظام میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ ہم نے ابھی تک کوئی معاشی دباؤ محسوس نہیں کیا۔ یہ آ سکتا ہے۔ انٹرسیپٹرز کی تعداد سے باہر نہیں ہوئے جن کی ہمیں ضرورت ہے جنگ کو کم از کم مزید چھ ہفتے جاری رکھنے کے لیے۔ اس کے بعد کیا ہو گا، میں نہیں جانتا لیکن کم از کم چھ ہفتے۔ برانڈن وائخَرٹ کے استفسار پرکہ چھ ہفتوں میں کیا ہو گا جب یہ جنگ ختم نہیں ہو گی؟ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ یہ جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔یاکوف امیڈرور: کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا۔۔ ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے، اہداف کی تعداد کے ساتھ کہ ہر دن ایران میں کیا تباہ کیا جائے گا اور ہم یہ کام آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر کر رہے ہیں۔ اور ہم وہ سب کچھ تباہ کر رہے ہیں جسے ہم ضروری سمجھتے ہیں تاکہ ایران کی صلاحیت کو کم سے کم کیا جا سکے کہ وہ مستقبل میں اسرائیل پر حملہ کرے یا جوہری وار ہیڈ یا طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا کوئی نیا منصوبہ بنائے۔ اور ہم تیار ہیں کہ جاری رکھیں۔ ہماری نظر میں اگر یہ جنگ جاری رہتی ہے اور جنگ بندی نہیں ہوتی تو بھی ٹھیک ہے کیونکہ ہمارے پاس فہرست ہے کہ کیا تباہ کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم سب کچھ اپنی نظر میں تباہ کر چکے تو ہم جنگ ختم کر سکتے ہیں۔ یہ ہماری نظر ہے۔ ہم ایرانیوں سے کچھ نہیں چاہتے سوائے اس کے کہ وہ اسرائیل پر حملہ نہ کریں۔سینیٹر مشاہد حسین: ایران میں رجیم چینج کے حوالے سے ٹرمپ کے دعوے پر کہا کہ یہ وہی پرانی کہانی ہے امریکی جنرل کی جس نے لنڈن جانسن سے کہا تھا: ’’جناب صدر، میرا خیال ہے ہمیں صرف اعلان کر دینا چاہیے کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں اور ویت نام سے نکل جانا چاہیے۔‘‘ میرا خیال ہے ٹرمپ جانتے ہیں کہ وہ نیتن یاہو کے ہاتھوں پھنس گئے ہیں، شاید ایپسٹین فائلز کی بلیک میلنگ یا اس قسم کی کسی چیز کی وجہ سے، اور وہ ایران کے دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہو چکا ہے کہ جتنا یہ جنگ چلے گی، اتنا سیاسی طور پر ٹرمپ کے لیے تباہ کن ہو گی، جیسا کہ برینڈن نے درست کہا۔ اور میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ ایک ’فیس سیونگ‘ راستہ ڈھونڈ رہے ہیں اور وہ خطے کے کئی ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ کوئی سیف ایکزٹ کا انتظام کریں — اور انہیں یہی چاہیے۔ ورنہ انہوں نے اہداف بدل دیے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا "مجتبٰی کامی" کبھی قابل قبول نہیں ہو گا۔ ایرانیوں نے وہ سب کر لیا جو وہ چاہتے تھے — اپنی شرائط پر۔ وہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ کب حملہ کرنا ہے اور کس کو آبنائے ہرمز میں روکنا ہے۔ پورا خطہ تناؤ میں ہے۔ تیل کی قیمتوں کو سخت دھچکا لگا ہے۔ مارکیٹیں خراب حالت میں ہیں۔ شپنگ، سفر، تجارت، سیاحت — سب بکھری ہوئی ہیں جیسا کہ کہتے ہیں۔ تو میرا خیال ہے کہ جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا کے بیشتر حصے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ اور ایرانی ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں اور بڑے کامیابی سے کھیل رہے ہیں، میں کہوں گا۔یاکوف امیڈرور نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ:اگر ’کھیل چلانا‘ (calling the shots) کا مطلب یہ ہے کہ ہر روز ہزاروں طیارے آپ کی تنصیبات پر بمباری کریں اور آپ کا صنعتی ڈھانچہ تباہ کر دیں، تو یقیناً یہ ایرانیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔… سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ:لیکن ایرانی جواب دے رہے ہیں۔ اسرائیل — میرا مطلب ہے — پچھلے تین ہفتوں سے زیادہ تر اسرائیلی اپنے بیڈ رومز میں نہیں سوئے۔ وہ پناہ گاہوں میں سوتے رہے ہیں۔یاکوف امیڈرور: نے دعوی کیا کہمیں تل ابیب میں رہتا ہوں۔ میں تل ابیب میں رہتا ہوں۔ وہ 15 اسرائیلیوں کو قتل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بس اتنا۔ 15 اسرائیلی۔ اس سے کم… نہیں، نہیں، میں ہال ہی میں ایک کمپنی کے بورڈ میٹنگ سے آیا ہوں جس کا میں رکن ہوں۔ ہم وہاں تین گھنٹے رہے۔ ہمیں کچھ محسوس نہیں ہوا۔ دن میں دو بار ہمیں پانچ منٹ کے لیے پناہ گاہ میں جانا ہوتا ہے اور پھر ہم ایسے ہی معمول پر واپس آ جاتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید