• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پدر شاہی سوچ خواتین کی ترقی میں بڑی رکاوٹ، اصلاحات ناگزیر

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں پدرشاہی پر مبنی سماجی سوچ خواتین کی ترقی کی راہ میں بدستور بڑی رکاوٹ ہے اور اس کے خاتمے کے لئے تعلیم، قانونی اصلاحات، معاشی خودمختاری اور ثقافتی تبدیلیوں پر مبنی جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے پاکستان ویمنز فاؤنڈیشن فار پیس کے زیر اہتمام یومِ خواتین 2026 کی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ مذاکرے بعنوان “پاکستان میں خواتین کی ترقی میں رکاوٹ بننے والے روایتی پدرشاہی ذہنیت کے خاتمے” سے خطاب میں کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ویمنز فاؤنڈیشن فار پیس کی چیئرپرسن نرگس رحمان نے کہا کہ پاکستان ایک پدرشاہی معاشرہ ہے جس کی جڑیں جاگیردارانہ نظام میں پیوست ہیں، جہاں مرد کو بنیادی اختیار حاصل اور خواتین کو ماتحت حیثیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی و سماجی اقدار خواتین کی نقل و حرکت کو محدود کرتی ہیں اور انہیں تعلیم و روزگار کے مواقع سے محروم رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو عموماً گھریلو امور تک محدود سمجھا جاتا ہے اور یہ تنگ نظری بچپن سے ہی پروان چڑھتی ہے، جبکہ معاشی دباؤ کے باعث خاندان لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں خواتین کی شرح خواندگی تقریباً 53سے 54فیصد ہے جو مردوں کی تقریباً 73فیصد شرح سے نمایاں کم ہے، جبکہ لیبر فورس میں بھی خواتین کی شرکت نہایت محدود ہے۔ نرگس رحمان نے مزید کہا کہ کارپوریٹ شعبے میں بھی پدرشاہی ڈھانچے خواتین کی ترقی میں رکاوٹ ہیں، جہاں انتظامی عہدوں پر خواتین کی شرح محض 6.1فیصد ہے اور صرف 13فیصد خواتین کے پاس باضابطہ مالیاتی اداروں میں اکاؤنٹس ہیں۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید