اسلام آباد(مہتاب حیدر،تنویر ہاشمی ) پاکستان نے اپنے میکرو اکنامک اور مالیاتی فریم ورک میں کسی بڑی تبدیلی کے بغیر، بشمول ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں کمی کیے بغیر، International Monetary Fund (آئی ایم ایف) کے ساتھ ایک اسٹاف لیول معاہدہ (SLA) طے کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت تیسری جائزہ رپورٹ اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تحت دوسری جائزہ رپورٹ سے متعلق ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد چار سے چھ ہفتوں میں 1.2 ارب ڈالر جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔اسلام آباد کی جانب سے ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں نرمی اور کمی کی درخواست کے باوجود آئی ایم ایف نے 13,979 ارب روپے کا ہدف برقرار رکھا۔ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں پارلیمنٹ نے 14,130 ارب روپے کا ہدف منظور کیا تھا، جبکہ ایف بی آر نے اسے کم کرکے تقریباً 13.43 کھرب روپے کرنے کی درخواست کی تھی، جسے آئی ایم ایف نے مسترد کر دیا۔آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق، حکام پائیدار مالیاتی پوزیشن کو یقینی بنانے اور بلند عوامی قرضے کو درمیانی مدت میں کم سطح پر لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس مقصد کے لیے مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس حاصل کرنے اور مالی سال 2027 میں اسے 2 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، اخراجات میں نظم و ضبط پیدا کرنے، اور صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں اخراجات بڑھانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی ذمہ داریوں کی بہتر تقسیم بھی شامل ہے۔آئی ایم ایف نے خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے کی شرط بھی عائد کی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت اقدامات حکومت کے اہداف کے مطابق رہے ہیں، جن میں عوامی مالیات کو مضبوط کرنا، افراطِ زر کو State Bank of Pakistan کے ہدف کے اندر رکھنا، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، اور ساختی اصلاحات شامل ہیں۔