کراچی (ٹی وی رپورٹ) تجزیہ کاروں بینظیر شاہ، ارشاد بھٹی، فخر درانی اور مظہر عباس نے کہا ہے کہ اس وقت اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ جنگ کتنی دیر چلے گی کب تک رکے گی ۔ پاکستان جو کچھ ثالثی سے متعلق کر رہا ہے اسے صیغہ راز میں رکھا جارہا ہے اور مثبت پیشرفت سامنے آسکتی ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ “ میں گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کی میزبان علینہ فاروق کے سوال کہ کیا خطے میں جنگ کو ختم کرنے کے امکانات مزید کم ہوتے جارہے ہیں؟ جواب میں تجزیہ کار بینظیر شاہ نے کہا کہ اس وقت اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ جنگ کتنی دیر چلے گی کب تک رکے گی خبریں اور بیانات کو بنیاد لگا کر یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ جنگ طویل ہوگی اور اس کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل ہے جب تک امریکہ اسرائیل کو نہیں رکے گا معاملات تھمیں گے نہیں ۔ یمن کے حوثیوں کی طرف سے بھی میزائل فائر کئے گئے ہیں اگر حوثی بھی تجارتی روٹ جام کردیتے ہیں تو توانائی کا بحران مزید بڑھے گا۔ امریکہ فوجی بھیج رہے ہیں سات ہزار سے دس ہزار فوجی خطے میں بھیجے جارہے ہیں اگر امریکہ آئرلینڈ پر قبضہ کرتا ہے اور ایک دو آئر لینڈ ایسے بھی ہیں جہاں یو اے ای اور ایران کے درمیان تنازعہ ہے دونوں کہتے ہیں کہ ہمارا حق ہے اگر امریکہ ان پر قبضہ کرتا ہے تو یو اے اے کی سپورٹ امریکہ کے ساتھ ہوگی۔ ٹرمپ نے جو سعودی عرب کے بارے میں زبان استعمال کی ہے ابھی تک وہاں سے کوئی ردِ عمل نہیں آیا ہے۔قطر پر تین چار دن سے حملہ نہیں ہوا ہے او رکہا جارہا ہے عرب ممالک سب الگ الگ طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں۔