کراچی (رفیق مانگٹ) ٹرمپ کی نئی لسانی لغزش۔۔۔آبنائے ہرمز کو آبنائے ٹرمپ کہہ دیا، میرے ساتھ غلطیاں شاذونادر ہوتی ہیں، ٹرمپ۔۔ہال میں قہقہے، امریکی صدر کی مشہور گافز پھر زیرِ بحث، غلطیوں کی فہرست طویل، ورجن آئی لینڈ کے ’صدر‘ سے ملاقات، ٹوئٹر پر Covfefe کا مذاق،’اوریجن‘ کی جگہ بار بار ’اورنجز‘ ۔۔۔اقوام متحدہ میں Namibia کو ’Nambia‘، ٹِم کُک بن گئے ٹِم ایپل۔۔۔گرین لینڈ کو بار بار آئس لینڈ کہا، جان ایف کینیڈی سینٹر کو ٹرمپ کینیڈی سینٹر کہنا۔۔۔بعدازاں نام واقعی تبدیل، خلیج میکسیکو نہیں، خلیج امریکہ۔۔۔بائبل کی آیت میں ’Second Corinthians‘ کو ’Two Corinthians‘ پڑھنا، نائن الیون کی جگہ سیون الیون کہنا، ٹرمپ لغزشوں پر دو رائے: حامی انہیں مذاق اور خوش، ناقدین کم علمی قرار دیتے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اپنی مخصوص لسانی لغزش کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گئے۔ انہوں نے میامی میں منعقدہ سرمایہ کاری کاری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو غلطی سے آبنائے ٹرمپ کہہ دیا۔جسے بعد ازاں انہوں نے ’لسانی لغزش‘ قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کے ساتھ غلطیاں شاذو نادر ہی ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہونا اچھا ہوگا لیکن ایران کو آبنائے ہرمزیعنی آبنائے ٹرمپ۔۔ میرا مطلب ہے ہرمز کھولنی ہوگی۔ غلطی کا احساس ہوتے ہی ٹرمپ نے معذرت کرتے ہوئے کہاʼمعاف کیجیے گا۔ مجھے بہت افسوس ہے۔ ایسی خوفناک غلطی، فیک نیوز کہے گا کہ ʼانہوں نے غلطی سے کہاʼ نہیں، میرے ساتھ کوئی حادثہ نہیں ہوتا، زیادہ نہیں۔ حاضرین نے اس جملے پر قہقہے لگائے۔ ٹرمپ کی لسانی غلطی(سلپ آف دی ٹنگ) یا گافز (gaffes) کافی مشہور ہیں۔ کچھ ان باتوں سے مزے لیتے ہیں ،کچھ ناراض ہو جاتے ہیں۔یہاں چند اہم مثالیں ہیں ٹرمپ نے 2017 میں امریکی جزائر ورجن آئی لینڈ کے گورنر سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ورجن آئی لینڈ کے صدر سےملاقات کی۔ ٹوئٹر پر انہوں نے ایک نامکمل جملے میں لفظ covfefe لکھا جو دنیا بھر میں مذاق بن گیا، لیکن ٹرمپ نے اسے بھی مذاق میں تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اصل مطلب چند لوگوں کو معلوم ہے۔