کراچی (نیوز ڈیسک) ایران جنگ کے ایک ماہ بعد ٹرمپ کے سامنے سخت فیصلے، لڑائی بڑھانے یا مذاکرات کا فیصلہ درپیش، امریکی عوام میں جنگ کی ناپسندیدگی، صدرکی مقبولیت کم،ہرمز ابھی بھی بند، عالمی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ،ڈپلومیسی مشکل، ایران ٹرمپ کی نیت پر شک میں ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے ایک ماہ بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے سخت انتخاب ہیں: یا تو ممکنہ مذاکرات کے ذریعے تنازعہ ختم کریں یا فوجی کارروائی بڑھائیں، جس سے ایک طویل اور پیچیدہ جنگ کا خطرہ ہے جو ان کے صدارتی دور پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ایران نے خلیج میں تیل اور گیس کی ترسیل پر قابو رکھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہیں، جس سے عالمی توانائی کی قیمتیں بلند اور مالی مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ ٹرمپ نے پانچ سے دس دن کے لیے ہرمز کی بندش پر حملے کی دھمکی مؤخر کر کے مذاکرات کی راہ دی، لیکن ایران مذاکرات میں جلدی کرنے کے بجائے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے پر قائم ہے۔ امریکی عوام میں جنگ کی مخالفت بڑھ گئی ہے اور ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر 36 فیصد رہ گئی ہے۔ جنگ کے دوران ڈپلومیسی کو مشکلات کا سامنا ہے اور ٹرمپ کی غیر واضح خارجہ پالیسی عالمی مارکیٹوں اور امریکی ووٹروں کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔