نیویارک (عظیم ایم میاں) سابق امریکی جنرلز بھی ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کے مخالف، ریٹائرڈ اعلیٰ اور تجربہ کار عہدیداروں کا صدر ٹرمپ کو ایران کی جنگ سے با ہر نکلنے کا مشورہ۔ تفصیلات کے مطابق امریکا کے ممتاز اور تجربہ کار ریٹائرڈ فوجی جنرلوں اور عہدیداروں کی جانب سے ایران کے خلاف چار ہفتے سے جاری جنگ کے تناظر میں احتیاط، اموات اور جنگ کے پھیلائو کے خدشات کے اعلانیہ اظہار کے باوجود صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کو تیز کرکے نتائج حاصل کرنے کی حکمت عملی اور اقدامات میں مصروف ہیں۔ امریکی افواج کے ان ریٹائرڈ اعلیٰ اور تجربہ کار عہدیداروں نے امریکی ٹی وی پر آکر نہ صرف صدر ٹرمپ کو ایران کی جنگ سے با ہر نکلنے کا مشورہ دیا ہے بلکہ کرگ آئی لینڈ نامی ایرانی علاقے میں تیل کی اہم تنصیبات پر امریکی حملے اور قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کے پاس جنگ میں آپشنز بہت محدود ہیں اور امریکی فوجیوں کی اموات اور نقصان کا بڑا خطرہ ہے لہٰذا صدر ٹرمپ کو جنگ میں اپنی فتح کا اعلان کرکے اس جنگ سے نکل آنا چاہئے۔ ریٹائرڈ میجر جنرل رینڈی مینر (Randy Manner) جو امریکی ایئر بورن 82 میں خدمات انجام دے چکےہیں نے ایران کے کرگ اور دیگر جزیروں پر قبضہ کرنے کی ٹرمپ حکمت عملی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے بیان کی حد تک دبائو کیلئے کافی ہے لیکن عمل کرنے کی صورت میں ایران کی جوابی کارروائیوں کے لئے ایران کے پاس امریکا سے زیادہ آپشنز موجود ہیں اور امریکی جانوں کے بڑے نقصان کے علاوہ ایران خلیجی ممالک کی سمندری پانی صاف کرنے کے ذخائر اور سسٹم پر حملے کرکے تباہی پھیلا سکتاہے۔