کراچی (رفیق مانگٹ) امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کی مرکزی پیش قدمی کیسے ممکن ہوئی؟ فیلد مارشل کے واشنگٹن اور تہران سے بیک وقت رابطے، پاکستان کی خفیہ سفارت کاری سرگرم، علاقائی کشیدگی میں پاکستان کا توازن برقرار رکھنا مشکل، کوششیں ناکام ہوئیں تو بڑا نقصان ہو سکتا ہے، اسلام آباد کیلئے اعتماد کا بحران سنگین ہونیکا اندیشہ، خلیجی ملک کیساتھ دفاعی معاہدہ نیا دردِ سر بن گیا۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، کیونکہ اس تصادم کے پھیلاؤ سے نہ صرف ملکی معیشت کو مزید کمزور ہونے کا خطرہ لاحق ہے بلکہ داخلی سلامتی کی نازک صورتحال بھی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ اسلام آباد گرم ہوتے تعلقات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اگر کوششیں ناکام ہوئیں تو اس کے لیے بہت کچھ داؤ پر ہے۔امریکی تھنک ٹینک اسٹِمسن سینٹر میں جنوبی ایشیا پروگرام کی سربراہ الزبتھ تھریلیکڈ کے مطابق جنگ کے طویل ہونے سے اسلام آباد کے لیے اپنے سفارتی توازن کو برقرار رکھنا مشکل بنتا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مذاکراتی معاون کے طور پر کردار ادا کرنا واشنگٹن کے ساتھ خیرسگالی بڑھانے کا اضافی فائدہ بھی رکھتا ہے، تاہم اگر امریکہ محض زمینی کارروائی سے قبل وقت حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کا تاثر دے رہا ہے، تو اس صورت میں پاکستان پر ایران کے ساتھ ملی بھگت کے الزامات بھی عائد ہوسکتے ہیں، جو اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین اعتماد کو نقصان پہنچائیں گے اور مستقبل میں پاکستان کی معاونت کی صلاحیت اور تیاری کو متاثر کریں گے۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایران کی سیاسی و عسکری قیادت سے متعدد رابطے کیے ہیں، جس سے پاکستان کی ثالثی کا کردار مزید نمایاں ہوا ہے۔