پشاور(نیوز رپورٹر)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج فراز احمد نے پولیس پارٹی پر حملے کے الزام میں گرفتار ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کاحکم دیدیا۔ ملزم کی جانب سے کیس کی پیروی سلمان شاہ ایڈوکیٹ نے کی۔ استغاثہ کے مطابق ملزم کامران آفریدی پر الزام ہے کہ اس نے 12اگست 2025کو تھانہ تہکال کی حدود میں ایس ایچ او نعمان خان سمیت پولیس پارٹی پر فائرنگ کی جبکہ جوابی فائرنگ سے ملزم ساتھی سمیت زخمی ہوگیا۔ عدالت کو بتایاگیاکہ ملزم کامران اور فیصل رحیم کو مسروقہ موٹرسائیکل پر روکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم انہوں نے رکنے کی بجائے پولیس پر فائرنگ کی اوربعد میں دونوں زخمی حالت میں پکڑے گئے ۔دوران سماعت ملزم کے وکیل سلمان شاہ نے بتایاکہ مدعی اس وقوعہ کا عینی شاہد نہیں ہے ،ریکارڈ سے واضح ہے کہ پولیس کوکوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ جو ثبوت وشہادتیں سے پیش کی گئیں اس سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے پر پولیس پر فائرنگ کی ہے ۔ عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قراردیاہے کہ ملزم سے تفتیش مکمل ہے اور چالان بھی جمع ہے لہذاملزم کی مزیدکسٹڈی کی ضرورت نہیں ہے۔،کریمینل جسٹس کے اصولوں کے مطابق پراسیکویشن کو بغیر کسی شک وشبہ اپنا کیس ثابت کرنا ہوتاہے ، اس کیس میں ایک ملزم ضمانت پر رہا ہوچکا ہے لہذا گرفتارملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کاحکم دیاجاتاہے۔