پشاور(نیوز رپورٹر)وفاقی حکومت کے احکامات کی روشنی میں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ اور ان کی جبری بے دخلی کیخلاف مزید افغان باشندوں نے پشاورہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے جس میں پولیس کو ان کے خلاف کارروائیوں اوران کی ہراسانی روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔ ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دورکنی بنچ نے جبری بے دخلی روکنے کی درخواستوں پرپہلے ہی متعلقہ حکام سے جواب طلب کررکھا ہے ۔اس ضمن میں ملک شہباز ایڈوکیٹ ودیگر کی وساطت سے رٹ پٹیشنزدائر کی گئی ہیں۔پٹیشنرزنے درخواستوں میں موقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں قیام کےلئے یو این ایچ سی آر سے رجوع کیا ہے جہاں ان کی درخواستیں زیر التواءہیں۔اس طرح بعض درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے پاس یہاں رہائش کیلئے مذکورہ دستاویز موجود ہیں تاہم اس کے باوجود انہیں مختلف طریقوں سے تنگ کیاجارہاہے جبکہ ان کے رشتہ داروں کو جیل میں ڈالا گیا ہے ۔عالمی قوانین کے تحت یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے لہذا عدالت سے ان کی جبری بے دخلی روکنے کی استدعا کی گئی ہے ۔ عدالت نے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کررکھاہے ۔