• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سمندری خوراک کا ضیاع کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، وزیر بحری امور

اسلام آباد ( نیو زرپورٹر) وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے سمندری خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےکہا کہ سمندری خوراک کے ضیاع میں کمی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف نمبر 14 کے حصول کیلئے ناگزیر ہے، ۔عالمی یومِ زیرو ویسٹ کے موقع پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر بحری امور نے کہا کہ سمندری خوراک کے ضیاع میں کمی سے نہ صرف بحری ماحولیاتی نظام کا تحفظ ممکن ہے بلکہ معاشی استحکام کو فروغ ملتا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں بھی مدد ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کہ ماہی گیری کے شعبے میں خوراک کا ضیاع نہ صرف ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتا ہے بلکہ روزگار اور معاشی استحکام کیلئے بھی خطرہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے اوشن ڈیکیڈ اور "میرین لائف 2030" وژن جیسے عالمی اقدامات کیلئے اپنے عزم پر قائم ہے، جن کا مقصد سمندری ماحولیاتی نظام کی بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، بہتر سپلائی چین اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ذریعے سمندری خوراک کے ضیاع میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور آئندہ نسلوں کیلئے مضبوط بلیو اکانومی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال زیرو ویسٹ ڈے کا موضوع "خوراک کا ضیاع" پاکستان کیلئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے، جہاں ساحلی علاقوں میں ماہی گیری سے 15 لاکھ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہر سال سمندری خوراک کا 20 سے 30 فیصد حصہ، جو تقریباً 2 لاکھ ٹن بنتا ہے، ناقص ہینڈلنگ، غیر مؤثر کولڈ چین اور مارکیٹ کے مسائل کے باعث ضائع ہو جاتا ہے۔انہوں نے خوراک و زراعت کی تنظیم کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر سمندری خوراک کا ضیاع ماہی گیری کے شعبے کے کاربن فٹ پرنٹ کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔جنید انوار چوھدری نے کہا کہ سمندری خوراک کا ضیاع محض پروٹین کا نقصان نہیں بلکہ بحری وسائل کا ضیاع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی مصروف فش ہاربرز سے لے کر گوادر کے ابھرتے بلیو اکانومی مراکز تک ہمیں جدت اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے ضیاع کو معاشی مواقع میں بدلنا ہوگا۔
اسلام آباد سے مزید