اسلام آباد (اسرار خان/ ناصر چشتی) بجلی صارفین کو اپریل کے بلوں میں 14.37 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نیشنل گرڈ کی پرچیزنگ ایجنسی نے اعتراف کیا کہ فروری کے دوران گھروں اور فیکٹریوں سے ایندھن کی اصل قیمت کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد کم چارج کیا گیا تھا۔ اب ریگولیٹر (نیپرا) اس فرق کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو بتایا کہ فروری کے بلوں کا حساب 6.73روپے فی یونٹ کی حوالہ جاتی ایندھن کی قیمت کے خلاف لگایا گیا تھا، جبکہ پیداوار کے اصل اخراجات 8.37روپے فی یونٹ رہے، جوکہ 1.64 روپے فی یونٹ کا فرق (شارٹ فال) ہے، جسے اس مہینے فروخت ہونے والے 7.43 ارب یونٹس سے ضرب دینے پر 12.18ارب روپے کا بنیادی ایڈجسٹمنٹ بل بنتا ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس لاگو ہونے کے ساتھ کل بوجھ 14.37ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔