کراچی (بابر علی اعوان) ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کیماڑی کے مرکزی اسٹورز سے لاکھوں روپے مالیت کی سرکاری ادویات نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے یہ ادویات مبینہ طور پر چوری کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق چند دنوں کے دوران نصفدرجن سے زائدنجی گاڑیوں میں یہ ادویات نامعلوم مقام پر منتقل کی گئیں جن سے محکمہ صحت سندھ کے اعلیٰ حکام تاحال لاعلم ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کیماڑی ڈاکٹر محمد افضل اوڈھو نے اس کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ادویات بدستور سرکاری اسٹور میں موجود ہیں اور کسی بھی منتقلی کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق دسمبر سے فروری کے دوران تقریباً 8 کروڑ روپے کی ادویات خریدی اور وصول کی گئیں جبکہ مارچ میں تبادلے سے قبل ضلع بھر کی ڈسپنسریوں کو ایک ماہ کی سپلائی فراہم کی جس کے بعد بھی اسٹور میں ہائی اینٹی بائیوٹکس، کھانسی، بخار، نزلہ زکام، الرجی سمیت دیگر بیماریوں کی کروڑوں روپے مالیت کی ادویات موجود تھیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ تبادلے کے بعد حالیہ دنوں میں مختلف ادویات بالخصوص ہائی اینٹی بائیوٹک کثیر تعداد میں مبینہ طور پر نجی گاڑیوں کے ذریعے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کی جا رہی ہیں تاہم ڈی ایچ او کی تردید اور ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات میں واضح فرق کے باعث معاملے کی باضابطہ اور شفاف جانچ کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔ واضح رہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے ضلع کیماڑی کی ڈسپنسریوں کے لیے 12 کروڑ روپے سے زائد کا سالانہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے تاہم ادویات کے کمزور چیک اینڈ بیلنس کے باعث عوام اس سے خاطر خواہ مستفیض نہیں ہو پاتے اور یہ مبینہ کرپشن کی نذر ہوجاتی ہیں۔